تلنگانہ کو غیر مقامی ورکرس کی واپسی کا آغاز

   

Ferty9 Clinic

بہار سے 225 مزدور واپس، تمام مزدوروں کا میڈیکل ٹسٹ
حیدرآباد ۔8۔ مئی(سیاست نیوز) کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ایک طرف ملک بھر سے غیر مقامی ورکرس اور لیبرس کی آبائی مقامات منتقلی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف تلنگانہ میں بہار سے مزدوروں کا پہلا قافلہ واپس ہوا۔ لاک ڈاون کے آغاز کے بعد یہ مزدور آبائی مقامات کیلئے روانہ ہوگئے تھے ۔ بہار سے تعلق رکھنے والے 225 مزدور دوبارہ حیدرآباد واپس ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بہار واپسی کے باوجود وہاں حکومت کی جانب سے کوئی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں اور کورونا کے خوف سے مزدوروں کو گاؤں میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے ۔ لہذا مزدوروں نے مجبوری کی حالت میں دوبارہ حیدرآباد واپسی کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت تعمیراتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کر رہی تھی لیکن ورکرس کی واپسی سے امید جاگی ہے کہ تلنگانہ میں تعمیراتی سرگرمیاں بہت جلد بحال ہوجائیں گی۔ حکومت کو امید ہے کہ بہار کے علاوہ جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں سے بھی مزدور بہت جلد تلنگانہ واپس ہوں گے ۔ بہار سے آنے والے مزدوروں کے قافلہ کا ریاستی وزیر جی کملاکر ، سیول سپلائیز کارپوریشن کے صدرنشین سرینواس ریڈی اور فارمرس کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدرنشین پی راجیشور ریڈی نے استقبال کیا۔ حکومت کے نوڈل آفیسر سندیپ کمار سلطانیہ ، کلکٹر رنگا ریڈی اجئے کمار اور سائبر آباد پولیس کمشنر سجنار ورکرس کی واپسی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ رائس ملز میں کام کرنے والے مزدور دوبارہ واپس ہوئے ہیں۔ نلگنڈہ ، مریال گوڑہ ، کریم نگر ، کاما ریڈی ، جگتیال ، پدا پلی ، منچریال اور سدی پیٹ کو خصوصی بسوں کے ذریعہ انہیں روانہ کیا گیا ۔ حکام نے روانگی سے قبل میڈیکل ٹسٹ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ واپس ہونے والے ورکرس کا میڈیکل ٹسٹ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر انہیں کورنٹائن سنٹرس منتقل کیا جائے گا ۔