ریاست کے ساتھ نا انصافی کے خلاف اسمبلی میں احتجاج اور متفقہ قرار داد کی منظوری
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ قرار داد کو متفقہ رائے سے منظور کرتے ہوئے مرکزی بجٹ پر نظر ثانی کرتے ہوئے تلنگانہ کو بجٹ مختص کرنے میں جو ناانصافی ہوئی اس کو معقول فنڈز جاری کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ۔ قرار داد کے ذریعہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے تحریر کردہ دستور کے مطابق ہندوستان تمام ریاستوں کا ایک وفاق ہے ۔ مرکزی حکومت تمام ریاستوں کی جامع ترقی کی ذمہ دار ہے ۔ اس وفاقی جذبے کو مرکزی حکومت نے نظر انداز کردیا ہے ۔ تلنگانہ کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا ۔ مرکز کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ میں یہ رجحان ریاست کی تشکیل کے بعد سے جاری ہے ۔ تقسیم ریاست قانون کے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔ تلنگانہ کی ترقی پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے ۔ تلنگانہ میں عوامی حکومت کی تشکیل کے بعد سے چیف منسٹر اور ریاستی وزراء نے وزیراعظم اور مرکزی وزراء سے ملاقاتیں کی تھیں ۔ ریاست کے مفادات کی تکمیل کے لیے کئی تحریری یادداشتیں پیش کی گئی ۔ ریاست کے مختلف پراجکٹس کے لیے مالی امداد حاصل کرنے کے علاوہ قانون کے مطابق واجب الادا رقومات اور حل طلب مسائل کے حوالے سے متعدد درخواستیں دی گئی ۔ لیکن مرکزی حکومت نے انہیں نظر انداز کردیا ہے اور مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ مکمل امتیازی سلوک کیا ہے جس پر تلنگانہ کی ایوان اسمبلی اپنے شدید عدم اطمینان اور احتجاج کا اظہار کرتی ہے ۔ تلنگانہ سے بجٹ میں نا انصافی پر اسمبلی میں متفقہ رائے سے ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے بجٹ مباحث میں بجٹ پر نظر ثانی کرنے کی مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے اور ریاست تلنگانہ سے انصاف کرنے کیلئے مناسب اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بی آر ایس ، مجلس اور سی پی آئی نے اس قرار داد کی تائید کی جب کہ بی جے پی نے واک آوٹ کیا ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر نے قرار داد کی بھر پور تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں قرار داد منظور کرنا بے فیض ہے ۔ کانگریس کے پارلیمنٹ میں 99 ارکان پارلیمنٹ ہے کانگریس پارٹی پارلیمنٹ میں احتجاج کرے اور مرکزی حکومت پر بجٹ نظر ثانی کے لیے دباؤ بنائے۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کابینی وزراء کے ساتھ دہلی کے جنترمنتر میں مرن برتھ رکھیں ۔ بی آر ایس کے تمام ارکان اسمبلی دہلی پہونچکر حصار بندی بناتے ہوئے چیف منسٹر اور وزراء کی حفاظت کریں گے ۔ اپنے ساتھ ایک ہزار افراد کو بھی دہلی لائیں گے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور ملکاارجن کھرگے کی قیادت میں کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ بجٹ میں تلنگانہ سے ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ رہی بات دہلی میں احتجاج کرنے کی اگر قائد اپوزیشن کے سی آر اس احتجاج میں حصہ لیتے ہیں تو وہ احتجاج کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔ تاریخ اور مقام کا بھی بی آر ایس کو طئے کرلینے کا مشورہ دیا ۔ مجلس کے رکن اسمبلی محمد ماجد حسین نے پارٹی کی طرف سے قرار داد کی تائید کی اور مرکز پر تلنگانہ سے سوتیلا سلوک کرنے کا الزام عائد کیا ، سی پی آئی نے کہا کہ جنوبی ہند میں عوام نے بی جے پی کو نظر انداز کردیا جس کی وجہ سے بجٹ مختص کرنے کے معاملے میں تلنگانہ کے ساتھ دوسری ریاستوں سے نا انصافی کی گئی ہے ۔ سی پی آئی اس قرار داد کی مکمل تائید کرتی ہے ۔ بی جے پی کے فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے اس قرار داد کو وفاقی نظام کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور بطور احتجاج واک آوٹ کردیا ۔۔ 2