تلنگانہ کو کووڈ۔19 کنٹینمنٹ زونس سے نجات مل گئی

   


کورونا کیسس میں کمی ، غیر علامتی مریضوں کے سبب کنٹینمنٹ زون ضروری نہیں، محکمہ صحت کو راحت
حیدرآباد: ہندوستان کو کورونا سے مکمل نجات کے لئے مزید کتنا وقت لگے گا اس بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا لیکن تلنگانہ حکومت کووڈ ۔ 19 کنٹینمنٹ زونس سے نجات کا دعویٰ کرنے کے موقف میں آچکی ہے۔ تلنگانہ میں کورونا کے کیسس میں قابل لحاظ کمی کے باعث کنٹینمنٹ زونس کی تعداد بتدریج کم ہوئی ہے اور حکام کا دعویٰ ہے کہ فی الوقت ریاست میں ایک بھی علاقہ ایسا نہیں جسے کنٹینمنٹ زون قرار دیا جائے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران تلنگانہ میں کیسس کی تعداد 200 سے 400 کے درمیان ریکارڈ کی جارہی ہے۔ یہ تعداد کورونا ٹسٹ کی تعداد پر منحصر ہے ۔ 40 تا 50 ہزار ٹسٹ کئے جانے کی صورت میں کیسس کی تعداد زیادہ درج ہورہی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں مجموعی کیسس کی تعداد میں کمی کے سبب حکام کنٹینمنٹ زون ختم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک مہینہ کے دوران منظر عام پر آنے والے کورونا کے نئے کیسس میں یا تو علامات نہیں پائی گئیں یا پھر معمولی نوعیت کے تھے ، لہذا مریضوں کو گھر میں آئسولیشن کے تحت رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ حکام کے مطابق غیر علامتی مریضوں اور وائرس کی شدت میں کمی کی صورت میں سارے علاقہ کو کنٹینمنٹ زون قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ محکمہ صحت نے ریاست میں موجود تمام کنٹینمنٹ زون کی برخواستگی کا اعلان کیا ہے ، ان میں زیادہ تر زون گریٹر حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور ملکاجگری میں تھے ۔ حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے موثر قدم اٹھائے ، اس کے علاوہ عوام میں وائرس سے بچاؤ کے لئے شعور بیدار کیا گیا ہے۔ احتیاطی تدابیر اور چوکسی کے نتیجہ میں وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکا۔ کورونا وباء کے عروج کے دور میں گریٹر حیدرآباد میں کنٹینمنٹ زونس کی تعداد 400 سے تجاوز کرچکی تھی ۔ کنٹینمنٹ زون قرار دینے کے بعد عوام کو کھلے عام گھومنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور داخلے کے مقام پر پولیس پکٹ تعینات کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں کورونا سے متاثرہ مکان تک پابندیوں کو محدود کردیا گیا لیکن کیسس کی تعداد میں کمی کے باعث تمام زونس ختم کردیئے گئے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 6 جون کو ریاست میں کنٹینمنٹ زونس ختم کردیئے گئے اور بلیٹن میں 7 جنوری سے زونس کا کوئی تذکرہ شامل نہیں ہے۔