تلنگانہ کو کیرالہ کی طرز پر سی اے اے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ

,

   

ملک میں مسلمان آزمائشی حالات سے دوچار، صدر تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ کا خطاب

حیدرآباد 9فبروری ( پریس نوٹ ) صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی متنوع و متضاد خصوصیات اور نیرنگی ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بھی ہے ‘ اورہر مذہب کے ماننے والے اور ہر زبان کے بولنے والے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں برابر کے حصہ دار ہیں جبکہ جن ممالک میں صرف یک رنگی نظر آتی ہے‘ وہاں ہم کو ترقی اور خوشحالی نظر نہیں آتی ‘ انہو ںنے کل شب فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ریڈ ہلز میں 14ویں سید خلیل اللہ حسینی میموریل لیکچر میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ لیکچر ممتاز ماہر سوشیل سائنسس سابق ڈین جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے دیا ۔ جناب سید جلیل احمد نے اپنے خطاب میںملک میں جنگ آزادی سے قبل اور بعد کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ جہاں 1857میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ میں مسلمانوں کے حصہ لینے پرمسلمانوں کے خلاف بے انتہا ظلم ڈھائے گئے۔ وہیں آزادی کے بعد مسلمانوںپر مظالم کا سلسلہ تھما نہیں۔ مولوی سید خلیل اللہ حسینی نے ایسے میں حفاظت خود اختیاری کا تصور پیش کیا ‘ تاہم اب مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی کی نوعیت بدل گئی ہے ‘ ان پر نفسیاتی اور نظریاتی جنگ تھوپی جارہی ہے‘ ان کی مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے طریقے اپنائے جارہے ہیں‘ یہ حالات ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان سماجی اور معاشی حیثیت سے بہت کمزور ہوگئے۔ تعلیم میں پیچھے رہ گئے اور سرکاری خدمات میں ان کاتناسب گھٹتاہی چلا گیا۔ تعلیم اور سرکاری خدمات میںکم تناسب کے باعث ہی مسلمان تحفظات کے مستحق ہیں۔ جسٹس سچر کمیٹی نے مسلمانوںکے لئے تحفظات کی کوئی سفارش نہیں کی ۔ کے سی آر نے اقتدار حاصل کرنے سے پہلے مسلمانوں کو 12% تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہو ں نے اقلیتوںکی بھلائی کے کئی کام بھی کئے۔ اس دوران مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون CAAمنظورکیا ہے اور ملک بھر میں NPR اور NRC کو روبہ عمل لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملہ میں چیف منسٹر کا اعلان بھی قابل قدر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ چیف منسٹراسمبلی میں بھی ایک قرار داد اس سیاہ قانون کو منسوخ کرنے کے لئے پیش کریں۔اور کیرالہ کی طرح آرٹیکل 131 کے تحت ان اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں۔اگر کچھ نہ بھی ہو تو یہ ضرور ثابت ہوجائے گا کہ ان قوانین کے تعلق سے اتفاق رائے نہیں ہے اوریہ قانونArbitrary یعنی من مانی‘ جابرانہ اور یکطرفہ ہے۔ جناب سید جلیل احمد نے ملک کی معاشی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی ‘سماجی اور معاشی حالات بے حد ابتر ہیں اور صورت حال کی اصلاح کے لئے حکومت کے پاس سیاسی عزم کی کمی نظر آتی ہے۔جی ڈی پی کی شرح گر گئی ہے ‘ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق غربت میں ہمارا مقام 19واں ہے‘ اور ہم جنوبی ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں‘ افریقہ کا ملک نائجیریا اس فہرست میں ہم سے بہتر مقام رکھتاہے۔ حکومت کے غیر سوچے سمجھے منصوبوں اور پالیسیوں کے منفی نتایج برآمد ہورہے ہیں‘ نوٹ بندی نے معیشت کی کمر توڑ دی اس کے بعد جی ایس ٹی نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ مگر بی جے پی کے قائیدین اور کارکن اس کو بھی حکومت کی کامیابی بتاتے نہیں تھکتے۔ نوٹ بندی کے بعد کالا دھن تو نہیں آیا لیکن کالا قانون ضرور لایا گیا۔ انہوںنے کہا کہ ایک بین الا قوامی ادارہ OXFAM کے سروے کے مطابق ہندوستان کی دولت کے 73فیصد حصہ پر صرف ایک فیصد افراد کاقبضہ ہے ‘ دولت کا یہ عدم توازن کوئی اچھی بات نہیں ہے بلکہ سخت مضرت رساں ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ایک فیصد کالا دھن بھی برآمد نہیں ہوا‘ اسی طرح این آر سی میں ایک فیصد گھس پٹیئے بھی نہیں نکلیں گے۔ آسام میں 19لاکھ افراد میں سے 15لاکھ غیر مسلم نکلے اور یہی تناسب سارے ملک میں بھی ہوگا۔ لیکن ہمارے مرکزی وزیرداخلہ نے خود اپنی زبان سے کہا ہے کہ ہندوؤں کو پریشان اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ CAAکے ذریعہ ان کا احاطہ کرلیا جائے گا‘ اور صرف مسلمان ہی زد میں آئیں گے اور ان کو پریشان کیا جائے گا‘ اسی احساس نے ملک گیر احتجاج کو ہوا دی ہے۔