تلنگانہ کیلئے مزید 23 نوودیا اسکولوں کے قیام کا مرکز سے مطالبہ

   

تعلیم کے شعبہ میں تلنگانہ نظرانداز، بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کا رویہ افسوسناک
حیدرآباد۔28۔ جنوری (سیاست نیوز) نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ میں تعلیم کے شعبہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ نئے اداروں کی منظوری کے معاملہ میں جانبداری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ ونود کمار نے کہا کہ ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے کئی اداروںکے قیام کے سلسلہ میں بارہا نمائندگی کی گئی لیکن تلنگانہ کے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے اس بارے میں کوئی تعاون حاصل نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے ۔ ونود کمار نے تلنگانہ میں نوودیا اسکولوں کے قیام کے علاوہ کریم نگر میں ٹرپل آئی ٹی ، حیدرآباد میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسے اداروں کی منظوری کے لئے نمائندگی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے بی جے پی کے چار ارکان پارلیمنٹ ہیں لیکن انہیں تعلیمی اداروں کی منظوری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے اس مسئلہ پر کبھی نمائندگی نہیں کی۔ ونود کمار نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بی جے پی ارکان کو مرکز سے نمائندگی کرتے ہوئے تعلیم کے شعبہ میں تلنگانہ سے انصاف کو یقینی بناناچاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کو کم از کم اپنے لوک سبھا حلقہ کے عوام کی بھلائی کی فکرکرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں انتظامی سہولت کیلئے 33 اضلاع تشکیل دیئے گئے اور ہر ضلع میں ایک نوودیا اسکول کے قیام کی ضرورت ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ ریاست بھر میں صرف 9 نوودیا اسکولس قائم ہیں۔ مرکزی حکومت کی پالیسی کے تحت ہر ضلع میں ایک اسکول قائم کیا جاسکتا ہے، لہذا مرکزی حکومت کو مزید 23 اسکولوں کی منظوری دینی چاہئے ۔ ر