سڑک پر مجسموں کی تنصیب کے خلاف کارروائی کا انتباہ
حیدرآباد۔/24 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کی ایکسائیز پالیسی میں مداخلت سے انکار کردیا۔ حکومت کی جانب سے ایس سی اور ایس ٹی طبقات کیلئے شراب کی دکانات کے الاٹمنٹ میں تحفظات کو چیلنج کیا گیا۔ تلنگانہ ری پبلک پارٹی کے جنرل سکریٹری آنند نے کہا کہ 2011 مردم شماری کے اعتبار سے ایس سی، ایس ٹی طبقات کو ان کی آبادی کے مطابق علی الترتیب 15.45 اور 9.08 فیصد تحفظات دکانات کے الاٹمنٹ میں عمل کئے جائیں ۔ درخواست گذار نے اپنے دلائل کے حق میں کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا۔ عدالت نے کہا چونکہ کوئی قانون موجود نہیں ہے لہذا درخواست گذار کو ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے 10 اور 5 فیصد دکانات کے الاٹمنٹ پر خوش ہونا چاہیئے۔ عدالت نے درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت نے ایک اور مقدمہ میں حکومت کو ہدایت دی کہ 30 ڈسمبر تک لینڈایکویزیشن ری ہبلیٹیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ اتھارٹی پر پریسائیڈنگ آفیسر کا تقرر کیا جائے۔ بصورت دیگر چیف سکریٹری کو حاضر عدالت ہونا پڑے گا۔ عدالت نے حکومت کو سڑک کے درمیان اور عوامی مقامات پر سڑک کے کنارے مجسموں کی تنصیب کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر اس طرح کے مقامات پر مجسمے نصب کئے جائیں گے تو از خود توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے احکامات اور جی ایچ ایم سی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجسموں کی تنصیب سے متعلق ایک شہری کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب کو مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر قبول کرتے ہوئے سماعت کی گئی۔ حکومت نے واضح کی کہ اہم مقامات اور سڑکوں پر مجسموں کی تنصیب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ر