تلنگانہ کی ترقی مخالفین تلنگانہ کے منہ پر طمانچہ : چیف منسٹر کے سی آر

   

ہم نے تمام اندیشوں کو غلط ثابت کردیا، ترقی اور فلاح و بہبود میں تلنگانہ ملک کیلئے ایک مثال، نئے سکریٹریٹ میں خطاب
حیدرآباد۔/30 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ گذشتہ 9 برسوں میں تلنگانہ کی غیر معمولی ترقی اُن لوگوں کے چہروں پر ایک طمانچہ ہے جنہوں نے نئی ریاست کی مخالفت کی تھی۔ چیف منسٹر آج سکریٹریٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے بعد عہدیداروں اور ملازمین کے جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ کے سی آر نے کہا کہ تمام شعبہ جات میں تلنگانہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ تلنگانہ کی تعمیرنو کا ایک بین ثبوت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں کئی افراد نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ نئی ریاست میں ترقی متاثر ہوگی اور تلنگانہ پسماندگی اور تاریکی کی سمت چلاجائیگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 9 برسوں میں ان تمام اندیشوں کا ازالہ کرکے ترقی اور فلاح و بہبود میں ملک کیلئے مثال قائم کی ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں پلاننگ کمیشن نے حیدرآباد کے سواء دیگر تلنگانہ اضلاع کو پسماندہ قرار دیا تھا اور یہ سوال کیا جارہا تھا کہ پانی اور برقی کے بغیر ترقی کیسے ممکن ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوام اکثر یہ سوال کرتے تھے کہ تلنگانہ کی تعمیر جدید کا کیا مطلب ہے۔کیا آپ سارے تلنگانہ کو منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے توہین آمیز گفتگو کی گئی لیکن آج نئے سکریٹریٹ سے ہم جواب دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے تعمیر جدید کے مختلف کارناموں کا حوالہ دیا اور کہا کہ کاکتیہ دور کے تمام آبی ذخائر، تالابوں اور جھیلوں کا تحفظ کیا گیا جس کے نتیجہ میں موسم گرما کے دوران بھی یہ تمام لبریز رہتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی پراجکٹ کالیشورم کی تکمیل کی گئی اور یہ تلنگانہ کی تعمیر نو کا حصہ ہے۔ کے سی آر نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد اپوزیشن نے ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مخالفین تلنگانہ کے تمام اندیشوں کو غلط ثابت کرکے ترقی اور فلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن بھگیرتا کے ذریعہ گھر گھر پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا گیا ہے اور یہ تلنگانہ کی تعمیر نو کا حصہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ترقی میں تلنگانہ کے شہر بین الاقوامی شہروں سے مسابقت کررہے ہیں۔ کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی ملک کی کسی ریاست میں نہیں ہے لیکن تلنگانہ نے اسے درست کردکھایا ۔ چیف منسٹر نے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے عہدیداروں و ملازمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مجھے اعزاز حاصل ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی و پُرشکوہ عمارت کا افتتاح کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ہر عہدیدار اور ملازم نے ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی مخالفین نے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کی لیکن حکومت نے مخالفت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تعمیری کام کو جاری رکھا ۔