تلگو ریاستوں کی یکساں ترقی کیلئے مرکزی حکومت سنجیدہ، حیدرآباد کی ترقی میں نائیڈو کا اہم رول
حیدرآباد ۔3 ۔ اپریل (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن نے وائی ایس آر کانگریس سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امراوتی کے مسئلہ پر جگن کے موقف کو دیکھ کر عوام ہنس رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں امراوتی بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ کانگریس اور وائی ایس آر کانگریس دونوں پارٹیوں نے عوام کے ساتھ ناانصافی کی تھی ۔ دارالحکومت کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی کا موقف واضح نہیں رہا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی غیر واضح پالیسی کے نتیجہ میں آندھراپردیش کے عوام کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کے انتخاب کا ریاستوں کو اختیار حاصل نہیں ہوتا لیکن وائی ایس آر کانگریس نے تین علحدہ دارالحکومتوں کا ڈرامہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کیلئے جدوجہد کرنے والے کسانوں کے خلاف وائی ایس آر حکومت نے مقدمات درج کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت دونوں تلگو ریاستوں کی یکساں طورپر ترقی کے حق میں ہے ۔ تلنگانہ ریاست کی ترقی کیلئے نریندر مودی حکومت نے 12 لاکھ کروڑ منظور کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 برسوں تک دارالحکومت کے بغیر آندھراپردیش کے وجود کیلئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراوتی کیلئے 29 ہزار کسانوں نے 33 ہزار ایکر اراضی فراہم کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے وکست بھارت نظریہ کے تحت وکست آندھرا تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجاہد آزادی پوٹی سری راملو نے علحدہ تلگو ریاست کیلئے 58 دنوں تک بھوک ہڑتال کی تھی لیکن اس وقت کی کانگریس حکومت نے مطالبہ کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نے حیدرآباد کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے اور اب وہ امراوتی دارالحکومت کو ترقی دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ مرکزی حکومت دونوں تلگو ریاستوں کی ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی۔1