ریاست میں بی جے پی کا کوئی سیاسی وجود نہیں۔ صرف بی آر ایس کی مدد کیلئے انتخابی سرگرمیاں۔ کھمم میں پرینکا گاندھی کا جلسہ سے خطاب
مدھیرا 25 نومبر ( سیاست نیوز ) کے سی آر خاندان کا ہر فرد وزیر ہے یا تو بہت بڑا تاجر ہے ۔ رشتہ داروں کو بڑے کاروبار میں جوڑ رکھا ہے ۔ کے سی آر کو اپنے 10 سالہ اقتدار میں کسی بیروزگار کو روزگار دینے کی فکر نہیں کی کیا آپ لوگوں نے علحدہ تلنگانہ کا خواب اس لیے دیکھا تھا ؟ ۔ یہ سوال آج کھمم کے مدھیرا حلقہ میں پرینکا گاندھی نے ایک بڑے جلسہ سے خطاب میں عوام سے کیا ۔ سونیا گاندھی نے تلنگانہ تشکیل دیا تھا ان بیروزگار نوجوانوں کیلئے جو برسوں سے ہاتھ میں ڈگریاں تھامے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں ۔ دل پر اس وقت چوٹ لگتی ہے جب کسی ماں کا بیٹا امتحان کی تیاری کر کے امتحان لکھتا ہے اور چند دنوں میں یہ بات عام ہوجاتی ہے کہ پرچہ کا افشا ہوگیا ہے ۔ جن نوجوانوں نے تلنگانہ کے حصول کی خاطر اس سرزمین پر اپنا خون بہایا اور اب حصول تلنگانہ کے 10 سال کے باوجود بیروزگاری میں کوئی کمی نہیں آئی نہ کسی کو ملازمتیں ملیں۔ نہ کسانوں کو راحت ملی ۔ کسی کو اگر کچھ ملا تو وہ کے سی آر کے خاندان کو ملا ہے ، جنہوں نے اپنے رشتہ دار سمیت تمام افراد کو کافی فائدہ پہونچایا یہی وجہ ہے کہ بی آر ایس قائدین کے بڑے محل ہیں کئی فارم ہاوس ہیں کوئی قائد فارم ہاوز سے باہر آکر عوامی مسائل سے واقفیت حاصل نہیں کرتا ۔ عین انتخابات کے وقت ہی یہ فارم ہاوس سے نکل آتے ہیں ۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ آپ لوگ کسی کے گھر رشتہ کی بات کیلئے جاتے ہیں تو لڑکی والوں کی نیت اور ان کی تہذیب کا جائزہ لیتے ہیں ۔ دس سال سے کے سی آر کو دیکھ رہے ہیں ان کی نیت میں کھوٹ ہے اور کسی حال میں کرسی بچانا دولت بٹورنا اور خاندان کے ہر فرد کی خوش حالی کی فکر ہے لیکن انہوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا ۔ ۱۰ برس میں بیروزگار نوجوانوں کے خوابوں کو پورا نہیں کیا اور پھر اقتدار کی کرسی بچانے کی فکر میں لگے ہیں ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کا تلنگانہ میں کوئی سیاسی موقف نہیں ہے ۔ یہ پارٹی صرف انتخابات میں کے سی آر کو سہارا دینے اپنی سرگرمیاں چلا رہی ہے کیونکہ کے سی آر مودی کو دلی کے تخت پر مستقل دیکھنا چاہتے ہیں اور وزیراعظم کے سی آر کو تلنگانہ کا چیف منسٹر دیکھنا چاہتے یہی وجہ ہے کہ بی جے پی مسلسل بی آر ایس کو سہارا دینے سرگرم ہے اصلیت یہی ہے باہر دکھاوا الگ اور اندر الگ ہے ۔ میرا بھائی ( راہول گاندھی )اس دیش کو بچانے ہزاروں میل پدیاترا کرکے تمام طبقات کی خوشحالی کیلئے جدوجہد کیا ۔ آج ایک طرف کانگریس ہے تو دوسری طرف ہمارے خلاف تین جماعتیں صف آرا ہیں ۔ ایک بی آر ایس دوسری بی جے پی تیسری جماعت جو کئی ریاستوں میں کانگریس کو نقصان پہونچانے پچاس پچاس سیٹوں پر مقابلہ کرتی ہے اور خود تلنگانہ میں صرف 9 نشستوں پر الیکشن لڑا جاتا ہے ۔ کانگریس کے مقاصد اور وعدہ آئینہ کی طرح صاف ہیں ۔ ہم جو کہتے ہیں اسے پورا کر کے دکھاتے ۔ حال ہی میں ہم نے کرناٹک میں عوام سے جو وعدہ کیے ان پر عمل آوری ہورہی ہے ۔ آپ ہمیں اقتدار دیں ہم آپ کی آرزوؤں پر کھرے اتریں گے ۔ ہم نے چھتیس گڑھ میں گذشتہ پانچ برسوں میں دو لاکھ سے زیادہ روزگار دئے جبکہ تلنگانہ میں بے روزگاروں کو تو کچھ نہیں ملا مگر پراجکٹوں کے نام پر ہزاروں کروڑ روپیہ لوٹا گیا اور غریب کے چھوٹے کاموں کیلئے کمیشن طلب کیا گیا ۔ آخر میں پرینکا گاندھی نے تلگو میں کہا ’ مادپور اوالی کانگریس کا ولی ‘ یعنی تبدیلی آنا ہے کانگریس کو لانا ہے ۔