ای پاس کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں، ایمبولنس کے لئے دستاویزات پر داخلہ کی اجازت
حیدرآباد: آندھراپردیش سے آنے والی گاڑیوں کو ای پاس کے بغیر تلنگانہ کی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ آج بھی نلگنڈہ اور دیگر اضلاع میں تلنگانہ کی سرحد پر آندھراپردیش کی گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے روک دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ جب تک ای پاس حاصل نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک سرحد میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مریضوں کو حیدرآباد منتقل کرنے کیلئے بعض ایمبولنس گاڑیاں بھی ای پاس کے بغیر سرحد تک پہنچ گئیں لیکن انہیں بھی داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس نے مریضوں کے رشتہ داروں کو مشورہ دیا کہ وہ آندھراپردیش پولیس کی مدد سے ای پاس حاصل کریں۔ اسی دوران ڈی آئی جی رنگناتھ نے آج نلگنڈہ اور سوریا پیٹ کے مختلف چیک پوسٹ کا دورہ کرتے ہوئے لاک ڈاون پر عمل آوری کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ای پاس کے بغیر کسی بھی گاڑی کو داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈی آئی جی نے سرحدی اضلاع میں موجود چیک پوسٹ اور ٹول گیٹس کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس یا پھر آندھراپردیش پولیس کی جانب سے جاری کردہ ای پاس کے بغیر گاڑیوں کو داخلہ کی اجازت نہیں رہے گی ۔ ڈی آئی جی کے مطابق مریضوں کو منتقل کرنے والی ایمبولنس گاڑیوں پرکوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ وہ درکار دستاویزات کے ساتھ سرحد میں داخل ہورہے ہیں۔ خانگی گاڑیوں میں مریضوں کی منتقلی کی صورت میں ہاسپٹل سے جاری کردہ لیٹر اور دیگر ضروری دستاویزات کا ہونا شرط رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صبح 6 تا 10 بجے لاک ڈاون میں نرمی کے دوران دیگر ریاستوں سے آنے والی گاڑیوں کو پاس کے بغیر اجازت نہیں دی جائے گی ۔ حکومت نے گڈس گاڑیوں کو رات کے اوقات میں چلانے کی اجازت دی ہے۔ لہذا دن کے اوقات میں وہ تلنگانہ کی سرحد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کے سخت موقف کے نتیجہ میں آندھراپردیش سے تلنگانہ کو عوام کی آمد و رفت پر اثر پڑا ہے ۔ پولیس نے آندھراپردیش سے متصل چار چیک پوسٹ میں سے تین چیک پوسٹ کو بند کردیا ہے اور گاڑیوں کو طویل قطار کے ساتھ ایک چیک پوسٹ سے گزرنے مجبور کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے واضح ہدایت کی کمی کے نتیجہ میں تلنگانہ کی سرحدوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت میں غیر یقینی صورتحال ہے۔