کانگریس کی ضمانتوں پر بی آر ایس کا طنز و طعنہ، سوشل میڈیا پر فقرے
حیدرآباد۔21۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر سے ’ بیگن ‘ نے مقام حاصل کرنا شروع کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے اقتدار کے حصول کی صورت میں تلنگانہ عوام کو دی گئی 6 ضمانتوں سے برسر اقتدار سیاسی جماعت خوفزدہ ہوگئی ہے!مسز سونیا گاندھی نے گذشتہ دنوں شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں کانگریس کے جلسہ عام کے دوران تلنگانہ عوام کے لئے جن 6 ضمانتوں کا اعلان کیا ہے اس کے خلاف بھارتیہ راشٹرسمیتی قائدین نے مسلسل یہ باور کروانا شروع کردیا ہے کہ ان گیارنٹیز پر عمل آوری ممکنات میں نہیں ہے جبکہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگریس ان اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنا رہی ہے لیکن گذشتہ تین یوم سے ریاستی وزراء کی جانب سے یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ان ضمانتوں یا اسکیمات پر عمل آوری ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے ریاست کا خزانہ متاثر ہوگا۔عوام کو وزراء کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود عوام میں کانگریس کی 6 ضمانتوں کا اثر برقرار رہنے کو دیکھتے ہوئے اب برسراقتدار جماعت نے مضحکہ خیز انداز میں عوام کو یہ باور کروانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے کہ کانگریس کی 6 ضمانتیں بیگن کی ضمانتیں ہیں۔گذشتہ انتخابات سے قبل بھی تلنگانہ میں انتخابی مہم میں ’بیگن ‘ کو کافی اہمیت حاصل ہونے لگی تھی ۔ انتخابات سے قبل ایپل نے حیدرآباد میں سرمایہ کاری کے بجائے بنگلورو کو ترجیح دی تھی جس کے بعد یہ کہا جاتا رہا کہ ’بنگلورو کو ایپل اور حیدرآبادکو بیگن‘ اب جبکہ کانگریس نے کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد تلنگانہ میں 6 ضمانتوں کا اعلان کیا ہے اس پر بی آر ایس انہیں ’بیگن‘ کی گیارنٹی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز انداز میں اسے پیش کیا جا رہاہے۔