حیدرآباد 27 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کی جانب سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سینئر وزراء کے ساتھ نئی دہلی طلب کئے جانے کا امکان ہے تاکہ حالیہ دنوں میں حکومت کے مختلف تنازعات پر وضاحت طلب کی جاسکے۔ سنگارینی کالریز کے کول بلاک الاٹمنٹ ٹنڈر اور آؤٹر رنگ روڈ کے اندرونی حدود میں واقع صنعتوں کو منتقل کرتے ہوئے اراضی کی رہائشی اغراض کے لئے منتقلی جیسے فیصلوں پر اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے بے قاعدگیوں کے الزامات عائد کئے ہیں۔ وزراء کے درمیان تال میل کی کمی اور پنچایت چناؤ میں پارٹی کے غیر اطمینان بخش مظاہرہ پر بھی ہائی کمان وضاحت طلب کرے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اِن دنوں امریکہ کے دورہ پر ہیں اور توقع ہے کہ 2 فروری کو واپسی کے بعد وہ ہائی کمان قائدین سے ملاقات کریں گے۔ تازہ ترین صورتحال پر اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بعض سینئر قائدین نے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سونیا گاندھی، ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی کو واقف کرایا ہے۔ تنازعات کی حقیقت جاننے کے لئے ہائی کمان نے چیف منسٹر اور سینئر وزراء کی طلبی کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ فروری کے پہلے ہفتہ میں ملاقات ہوگی۔ تلنگانہ میں تنظیمی سطح پر بعض تبدیلیوں کی پیش قیاسی کی گئی ہے اور توقع ہے کہ ہائی کمان ورکنگ پریسیڈنٹس کے ناموں کی بھی منظوری دے گا۔ گزشتہ 2 برسوں میں انتخابی وعدوں پر عمل آوری کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی کیوں کہ عام سروے کے تحت وعدوں کی عدم تکمیل سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اپوزیشن اِس صورتحال کا فائدہ اُٹھانے کے لئے کوشاں ہے۔ حکومت اور پارٹی کے درمیان بہتر اشتراک کے لئے بھی ہائی کمان مساعی کرے گا۔ دوسری طرف چیف منسٹر کے قریبی ذرائع ہائی کمان سے امکانی ملاقات کو معمول کی ملاقات قراردے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت کی 2 سالہ کارکردگی کے علاوہ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ اور ورلڈ اکنامک فورم سمٹ کی تفصیلات سے ہائی کمان کو واقف کرایا جائے گا۔1