رقومات کیلئے کنٹراکٹرس کی دوڑ دھوپ، فلاحی اسکیمات پر عمل آوری متاثر
حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) ریاست کی ابتر معاشی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014 میں قیام تلنگانہ کے بعد سے ایک لاکھ بلز حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔ حکومت ایک طرف معاشی صورتحال کے بہتر ہونے کا دعویٰ کررہی ہے تو دوسری طرف زیر التواء بلز کے اعداد و شمار خزانہ کی بدحالی کے اظہار کیلئے کافی ہیں۔ حکومت تقریباً 25000 کروڑ روپئے مختلف کاموں اور اسکیمات کے سلسلہ میں بقایا ہے۔ کام کرنے والے اداروں اور ویلفیر ڈپارٹمنٹس کو یہ رقم ادا شدنی ہے۔ اب جبکہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے بمشکل ایک ماہ باقی ہے بلز کے حصول کے سلسلہ میں کنٹراکٹرس اور ایجنسیاں محکمہ فینانس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ 31 مارچ کو مالیاتی سال ختم ہوگا جس کے بعد بلز کی اجرائی میں مزید دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ حکومت نے محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مارچ تک پینڈنگ بلز کی تعداد کو ایک لاکھ سے گھٹاکر 50 ہزار کرے۔ مختلف ایجنسیاں اور کنٹراکٹرس بلز کی اجرائی کے سلسلہ میں وزراء اور برسراقتدار پارٹی کے بااثر قائدین سے رجوع ہورہے ہیں کیونکہ 31 مارچ کے بعد انہیں مزید دشواری ہوگی۔ بعض کاموں کے سلسلہ میں محکمہ فینانس نے ایجنسیوں کو چالان جاری کیا لیکن بجٹ کی کمی کا بہانہ بناتے ہوئے عہدیدار رقم جاری کرنے سے گریز کررہے ہیں۔چالانات ٹریژری ڈپارٹمنٹ کو داخل کئے جاتے ہیں تاکہ رقم کی اجرائی کا کلیم کیا جاسکے۔ ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے غیر سرکاری طور پر تمام ادائیگیوں پر روک لگادی ہے۔ صرف تنخواہیں اور پنشن جاری کئے جارہے ہیں۔ محکمہ جات میں آبپاشی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 10,128 کروڑ روپئے کے 12669 بلز اریگیشین ڈپارٹمنٹ میں زیر التواء ہیں اس کے بعد مختلف فینانس کارپوریشنوں کا نمبر آتا ہے جنہوں نے مختلف خود روزگار اسکیمات کے تحت امیدواروں کو قرض جاری کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف فینانس کارپوریشنوں میں 5963 بلز زیرالتواء ہیں جن کی لاگت 770 کروڑ ہوگی۔ محکمہ عمارات و شوارع کے2757 بلز پینڈنگ ہیں جس کے تحت 1127 کروڑ مختلف اداروں اور کنٹراکٹرس کو جاری کرنا باقی ہے۔ پنچایت راج ڈپارٹمنٹ کے 1718 بلز کے تحت 792 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ بقایا جات کے نتیجہ میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپ کے تحت 2490 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ حکومت نے پینڈنگ بلز کی تعداد کوگھٹاکر 50 ہزار کرنے کا نشانہ مقرر کیا ہے لیکن یہ محکمہ فینانس کیلئے تقریباً ناممکن ہے۔