تلنگانہ کی نئی گورنر کا پہلا دن مصروف ترین

   

Ferty9 Clinic

راج بھون پر سخت صیانتی انتظامات کے دوران کابینہ کی توسیع کی سرگرمیاں
حیدرآباد۔9ستمبر(سیاست نیوز) راج بھون میں آج نئی گورنر کی آمد کے بعد مصروف ترین دن دیکھا گیا کیونکہ صبح گورنر ڈاکٹر تملی سائی سوندراراجن کی حلف برداری کی تقریب کے سلسلہ میں راج بھون سڑک پر خصوصی صیانتی انتظامات کئے گئے تھے اور گورنر کی آمد کے سلسلہ میں وسیع تر انتظامات صبح سے ہی کئے جا چکے تھے ۔گورنر کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے سلسلہ میں چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس رگھویندر سنگھ چوہان ‘چیف منسٹرمسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ریاستی وزراء اور اہم شخصیتوں کی شرکت کے پیش نظر انتظامات کئے گئے تھے ۔ حلف برداری کی تقریب کے فوری بعد راج بھون میں ریاستی کابینہ کی توسیع کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں اور سہ پہر منعقد ہونے والی اس تقریب کیلئے تیاریوں کا جائزہ لیا جانے لگا ۔ حلف برداری کی تقریب کے فوری بعد حکومت کی جانب سے ریاستی کابینہ میں 6 وزراء کی شمولیت کے سلسلہ میں راج بھون کو مطلع کیا گیا اور ان کے نام روانہ کئے گئے جس کے ساتھ ہی ان کی حلف برداری تقریب کے سلسلہ میں سرگرمیاں شروع ہوگئیں اور جیسے جیسے نئے وزراء کے نام واضح ہوتے گئے راج بھون کے باہر نئے وزراء کے حامیوں کا ہجوم جمع ہونے لگا جو اپنے قائدین کو کابینہ میں شامل کئے جانے پر جشن منانے کیلئے پہنچا تھا۔کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت اور ان کی حلف برداری کے سلسلہ میں راج بھون میں ایک مرتبہ پھر سے اہم شخصیتوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں خود چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے علاوہ کابینی وزراء منتخبہ عوامی نمائندے اور نامزد عہدوں پر فائز صدورنشین وغیرہ موجود تھے۔ نئے وزراء کی حلف برداری کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے کابینہ کا اجلاس پرگتی بھون میں منعقد کیا گیا جس میں بجٹ کی منظوری عمل میں لائی گئی ۔ ریاستی کابینہ کے اجلا س کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر نے گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تملی سائی سوندراراجن سے تیسری مرتبہ ملاقات کے لئے پہنچے اور انہیں ریاستی کابینہ کی جانب سے کئے گئے فیصلوں سے واقف کروایا۔ گورنر تلنگانہ کی کی آمد سے شام تک گورنر تین مرتبہ ذرائع ابلاغ اداروں اور اہم شخصیتوں کے سامنے آئیں جن میں ان کی آمد ‘ بہ حیثیت گورنر حلف برداری کے علاوہ ریاستی کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت کے لئے منعقدہ حلف برداری تقریب شامل ہے۔ ان تینوں تقاریب میں گورنر نے اپنے روایتی لباس اورہر مرتبہ لباس تبدیلی کے ذریعہ تمل ناڈو کی تہذیبی جھلک کو پیش کیا ہر مرتبہ وہ اپنے بالوں میں پھولوں کا گجرا لگائے ہوئے نظر آئیںوہ سب سے مسکرا کر ہاتھ جوڑ کر ہی ملنے پر اکتفاء کرتی رہیں اور خواتین سے روایتی انداز میں مصافحہ کرتی دیکھی گئیں۔