تیسری مرتبہ ریاست میں حکومت تشکیل دیتے ہوئے بی آر ایس جنوبی ہند میں نیا ریکارڈ بنائے گی : محمد فاروق حسین
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کرناٹک کے طرز پر تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات کو ختم کردینے کا اعلان کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری اس بیان سے دستبردار ہوجانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی پرامن سرزمین پر امیت شاہ نفرت کا بیج بونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امیت شاہ کا خواب تلنگانہ میں کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا اور بی آر ایس بھی بی جے پی کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ فاروق حسین نے امیت شاہ اور مودی کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ کے مسلم تحفظات کے بجائے مرکز میں حکومت بچانے کی کوشش کریں کیوں کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر قومی سیاست میں ایک نیا انقلاب برپا کریں گے ۔ جس میں بی جے پی بہہ جائے گی ۔ قومی سیاست میں سربراہ بی آر ایس کے سی آر کی پہل قابل قبول بن کر تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ سارے ملک میں تلنگانہ ماڈل کی بات چل رہی ہے اور عوام تلنگانہ کی ترقی اور فلاحی اسکیمات سے بے حد متاثر ہیں ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کا وجود پانی کا بلبلہ ہے ۔ بی جے پی کے پاس ترقی اور فلاح و بہبود کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے ۔ بی جے پی صرف نفرت اور مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر تلنگانہ میں بی جے پی کی ایک نہیں چلے گی ۔ بی آر ایس اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی ہر محاذ پر بی جے پی کو ناکام بنایا جائے گا ۔ فاروق حسین نے کہا کہ کے سی آر کسی شخصیت کا نہیں انجمن کا نام ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ کی تحریک شروع کی اس میں کامیابی حاصل کی قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کے لیے قومی جماعت تشکیل دی ہے ۔ جس کے بعد بی جے پی کا زوال شروع ہوچکا ہے ۔ بی آر ایس مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملے میں عہد کی پابند ہے ۔ ریاست کے دونوں ایوانوں میں قرار داد منظور کی گئی ہے جس کو مرکزی حکومت نے نظر انداز کردیا ہے ۔ مرکز میں بی آر ایس یا بی آر ایس کی مخلوط حکومت قائم ہونے کے بعد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کیا جائیگا ۔۔ ن