برقی پراجیکٹس میں 15 ہزار کروڑ کی رشوت، کرپشن عوام میں بے نقاب کرنے کا اعلان
حیدرآباد: 18 جولائی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کی کے سی آر حکومت 30 فیصد کمیشن سرکار ہے جس نے آبپاشی پراجیکٹس اور تھرمل پاور پلانٹس کی تعمیر میں 30 فیصد کمیشن حاصل کیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تھرمل پاور پلانٹس کی تعمیر میں کے سی آر حکومت نے 15 ہزار کروڑ کی لوٹ مچائی ہے۔ جس طرح کرناٹک میں بی جے پی کی 40 فیصد کمیشن حکومت کو عوام نے بے دخل کردیا اسی طرح تلنگانہ میں 30 فیصد کمیشن سرکار کو بھی عوام زوال سے دوچار کردیں گے۔ حکومت کے ہر پراجیکٹ میں کمیشن اور دھاندلیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کے مسئلہ پر کھلے مباحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کسانوں کے کسی بھی پلیٹ فارم پر مباحث کے لیے آئیں اور وقت کا تعین کریں۔ کے ٹی پی ایس، یادادری اور بھدادری تھرمل پاور پراجیکٹس کے لیے 45730 کروڑ کا ٹینڈر طلب کیا گیا اور کے سی آر نے 30 فیصد کمیشن حاصل کیا جس کے تحت 15 ہزار کروڑ حاصل ہوئے۔ انہوں نے مفت برقی کی سربراہی کے نام پر کرپشن کا الزام عائد کیا کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کے سی آر حکومت کے کرپشن کو عوام میں بے نقاب کرے گی۔ مرکز کی جانب سے رعایتی شرح پر برقی سربراہی کی پیشکش کو قبول نہیں کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ملک میں ایک لاکھ 5 ہزار دیہاتوں کو برقی سربراہی کا انتظام کیا ہے۔ ریونت ریڈی کے مطابق کے ٹی پی ایس کے لیے 2015ء میں 5280 کروڑ کا ٹینڈر طلب کیا گیا جس کے تحت 800 میگاواٹ برقی کی تیاری کا نشانہ تھا۔ اتراکھنڈ میں 2400 میگاواٹ برقی پیداوار کے لیے 14 ہزار کروڑ کا ٹینڈر طلب کیا گیا تھا۔ بی ایچ ای ایل نے یہ ٹینڈر حاصل کیا جس کے تحت ایک میگاواٹ برقی کی پیداوار پر 5 کروڑ 50 لاکھ کا خرچ کا تعین کیا گیا۔ تلنگانہ میں این ٹی پی سی میں 1600 میگاواٹ برقی پیداوار کے لیے 10997 کروڑ کا ٹینڈر طلب کیا۔ ایک میگاواٹ برقی کی تیاری کے لیے 6 کروڑ 80 لاکھ طے کئے گئے۔ کے سی آر اور کے ٹی آر نے گجرات کی ایک کمپنی سے ایک ہزار کروڑ کی رشوت حاصل کی۔ ر