نظام آباد :سینئر کانگریس قائد اربن کانگریس کے انچارج طاہر بن حمدان نے سیاست نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آرایس حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے اراکین کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے ان تقررات میں ایک بھی ایک بھی مسلمان کو شامل نہیں کیا گیا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ کے سی آر اپنے خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ں ہے ۔ طاہر بن حمدان نے کہا کہ تلنگانہ کی آبادی میں مسلمان کا تناسب 15% فیصد ہے اور تلنگانہ کے کئی اضلاع میں کئی مسلمان دانشور ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسلمانوں کو موقع فراہم نہیں کیا گیا ۔کئی تعلیم یافتہ مسلمان ہونے کے باوجود بھی ایک کو بھی وائس چانسلر کی حیثیت سے نامزد نہیں کیا گیا ۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تعلیم یافتہ مسلم وائس چانسلر کا تقرر ناگزیر ہے اسی طرح سرکاری ملازمتوں کے حصول کیلئے مسلمانوں میں شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔اگر کوئی ایک پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ ہوتا تھا تو مسلمانوں میں شعور ہوسکتا تھا۔ ٹی آرایس ابتداء سے مسلمانوں کے ساتھ جھوٹے دعویٰ کررہی ہے نہ ہی سرکاری طور پر نامزد عہدہ فراہم کررہی ہے اور نہ ہی تحفظات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کے ساتھ ووٹ بینک کی سیاست کرتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کریں گے ۔ تلنگانہ کے کئی اضلاع میں مسلمان انتہائی پسماندہ ہے اور سطح غربت سے نیچے ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسلمانوں کی غربت کو دور کرنے کیلئے کئی کام کیا ہے مسلمان کے جذبات و احساسات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے ہمیشہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے انہیں فراموش کردیا جارہا ہے ۔مسٹر طاہر بن حمدان نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر رائو ہمیشہ زبانی ہمدردی کے سوا ء کوئی بھی ٹھوس کام نہیں کیا ۔ تلنگانہ تحریک میں مسلمان سب سے آگے رہتے ہوئے کے سی آر کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے علیحد ہ ریاست تلنگانہ کی مہم کے استحکام کیلئے عمل پیرا رہے اور انتخابات کے موقع پر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا اور اسے بھی فراموش کردیا ۔ چیف منسٹر کی ان حرکتوں سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر رائو اپنے خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے اور مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو عملی طور پر اقدامات کیا جاتا تھا ۔