تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس میں یکطرفہ طور پر برقی کی تیاری

   

مرکز کے احکامات نظر انداز، راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر پراہلاد سنگھ کا بیان

حیدرآباد۔9 ۔اگست (سیاست نیوز) مملکتی وزیر جل شکتی پراہلاد سنگھ پٹیل نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ سری سیلم ، ناگرجنا ساگر اور پولی چنتلا پراجکٹس میں برقی کی تیاری روکنے کیلئے کرشناریور مینجمنٹ بورڈ نے کئی مرتبہ احکامات جاری کئے لیکن تلنگانہ حکومت نے احکامات کو نظر انداز کردیا۔ وائی ایس آر کانگریس کے رکن وجئے سائی ریڈی کے سوال پر مرکزی وزیر نے بتایا کہ کرشنا ریڈی مینجمنٹ بورڈ کی منظوری کے بغیر تلنگانہ حکومت نے تین آبپاشی پراجکٹس میں برقی کی تیاری کا کام شروع کردیا۔ تلنگانہ حکومت کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی نے 5 جولائی کو مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سری سیلم پاور ہاؤز میں برقی کی پیداوار روکنے کیلئے 17 جون کو تلنگانہ جینکو کو ہدایت دی گئی تھی۔ برقی کی پیداوار کے لئے پانی کے استعمال پر دونوں ریاستوں میں تنازعہ پیدا ہوا ہے ۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ تینوں پراجکٹس میں برقی کی پیداوار روکنے کیلئے مرکز کو مداخلت کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل کا حکومت کو اختیار ہے لیکن یہ پانی برقی تیاری کیلئے استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت دونوں ریاستوں کو پانی کے استعمال کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ مرکز نے گوداوری اور کرشنا دریاؤں پر تعمیر کئے گئے تمام پراجکٹس کو مینجمنٹ بورڈ کے تحت کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس پر 2 ا کتوبر سے عمل آوری ہوگی ۔