تلنگانہ کے آبی حقوق پر سودے بازی : ہریش راؤ

   

ریونت ریڈی آندھراپردیش کے چیف منسٹر کو گرو دکشینا ادا کررہے ہیں ۔ حکومت یا سرکس؟

حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ کے آبی حقوق کے معاملہ میں کانگریس اور بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ دونوں جماعتیں ملکر ریاست کے مفادات کو نقصان پہونچا رہی ہیں۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی لگاتار دو برسوں سے دریائے کرشنا کے پانی کا کم استعمال کرتے ہوئے آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کو ’’گرو دکشینا‘‘ ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت کے مقابلے میں کانگریس دور حکومت میں کرشنا پانی کا سب سے کم استعمال ہوا ہے جو چیف منسٹر کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ جس چیف منسٹر کو ریاست کے حقوق کا محافظ ہونا چاہئے وہی ان حقوق کو پامال کررہا ہے۔ ہریش راؤ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آخر بی جے پی اور کانگریس میں آپس کا رشتہ کیا ہے؟ ریونت ریڈی کے آر آر ٹیکس اور اسکامس پر بی جے پی نے خاموشی کیوں اختیار کی ہے۔ انھوں نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو اور ریونت ریڈی کے درمیان چاہے فیویکول جیسا رشتہ ہو لیکن اس کی قیمت تلنگانہ کے آبی حقوق کیوں ادا کریں؟ انھوں نے انکشاف کیاکہ حکومت نے محض رسمی طور پر KRMB کو خطوط لکھے ہیں جبکہ عملی طور پر کوئی سخت قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ ایک طرف انجینئر اِن چیف کے مطابق آندھراپردیش نے 664 ٹی ایم سی پانی حاصل کیا تو دوسری طرف کے آر ایم بی کے مکتوب میں 555 ٹی ایم سی کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ چیف منسٹر نہ سوال کررہے ہیں اور نہ ہی KRMB تلنگانہ کے حقوق کا تحفظ کررہا ہے۔ ہریش راؤ نے خبردار کیاکہ اگر ریاست کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا گیا تو بی آر ایس خاموش نہیں رہے گی۔ کے آر ایم بی کے آفس کا محاصرہ کرے گی۔2