تلنگانہ کے آبی مفادات پر کے سی آر کی جگن موہن ریڈی سے سودے بازی

   

مرکز کی تائید پر دہلی میں ٹی آر ایس کو اراضی کا نذرانہ ، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔2 ۔ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کے آبی مفادات کا سودا کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جگن موہن ریڈی سے خفیہ مفاہمت کرلی ہے ۔ انہوں نے کرشنا اور گوداوری کے پانی پر تلنگانہ کے حق کے لئے نریندر مودی اور جگن موہن ریڈی حکومتوں کے خلاف جدوجہد کا مشورہ دیا اور کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ دہلی میں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرے۔ گاندھی بھون میں پارٹی کے سینئر قائدین پونالہ لکشمیا اور محمد علی شبیر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر کے سی آر دہلی میں بھوک ہڑتال کریں گے تو کانگریس پارٹی ان کی تائید کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے اجلاس میں تلنگانہ کے عہدیداروں کی جانب سے واک آؤٹ کا ڈرامہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم اور حصہ داری کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ بورڈ کے اجلاس میں تلنگانہ کی جانب سے مضبوط دلائل پیش کرنے میں ناکامی کے سبب تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مفادات کو قربان کرتے ہوئے کے سی آر نے جگن موہن ریڈی سے مفاہمت کرلی ہے۔ کانگریس پارٹی دریائے کرشنا کے پانی کی دونوں ریاستوں میں 50 فیصد یکساں تقسیم کے حق میں ہے۔ کرشنا ریور بورڈ کو پانی کی تقسیم کا اختیار حاصل نہیں جبکہ اپیکس کونسل کو اختیارات حاصل ہیں۔ کے سی آر کو نئی دہلی میں قیام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر جل شکتی شیکھاوت سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کرنی چاہئے ۔ ریونت ریڈی نے دہلی میں ٹی آر ایس آفس کے لئے اراضی کے الاٹمنٹ کو نریندر مودی کی جانب سے نذرانہ اور تحفہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں کے سی آر اور ان کے افراد خاندان کی ایک نئی جائیداد تعمیر کی جائے گی جس کا تلنگانہ عوام سے کوئی تعلق نہیں رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ملک کی کسی بھی علاقائی جماعت کیلئے اراضی الاٹ نہیں کی گئی ۔ کے سی آر نے نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی ہے جس کے عوض میں یہ اراضی بطور تحفہ پیش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے کے سی آر سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ ریور بورڈ میٹنگ کے موقع پر حیدرآباد میں موجود رہنے کے بجائے نئی دہلی چلے گئے۔ تقریب سنگ بنیاد میں ایک دن قبل روانگی پر ریونت ریڈی نے نکتہ چینی کی اور کہا کہ چیف منسٹر کرشنا ریور بورڈ کے اجلاس میں موثر نمائندگی کیلئے حیدرآباد میں موجود رہ سکتے تھے ۔ R