تلنگانہ کے آبی مفادات کو نقصان پہونچانے کی سازش : ہریش راؤ

   

200 ٹی ایم سی پانی کا رخ آندھرا پردیش کو موڑنے کی کوشش ، بی آر ایس کا شدید اعتراض
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس حکومت پولاورم ، نلاملا ساگر منصوبے کے تحت آندھرا پردیش کے ساتھ سازباز کررہی ہے ۔ جس سے تلنگانہ کے آبی مفادات کو شدید نقصان پہونچنے کا خدشہ ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ رٹ پٹیشن سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ریاست کے عوام کو گمراہ کیا ہے ۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ دہلی میں جاری آبی تنازعہ کمیٹی کی میٹنگ دراصل پولاورم ، نلاملا ساگر مسئلہ کے حل کے نام پر دریائے گوداوری کے 200 ٹی ایم سی پانی کو آندھرا پردیش منتقل کرنے کی سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے سوال اٹھانے کے بعد حکومت نے رسمی طور پر مخالفت ظاہر کرتے ہوئے مرکز کو مکتوب روانہ کیا ۔ تاہم عملی طور پر اس منصوبے کو روکنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ دہلی میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں شرکت کے لیے حکومت نے دو مبہم شرائط رکھی ۔ جب کہ ڈی پی آر کو روکنے سے متعلق کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب مرکز کی جانب سے کسی قسم کی یقین دہانی نہیں دی گئی تو سی ڈبلیو سی نے اس پراجکٹ کو منظوری کیوں دی ؟ کیا یہ ’تلنگانہ کے لیے ڈیتھ وارنٹ ‘ ثابت نہیں ہوگا ۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ اس اجلاس میں آدتیہ ناتھ داس کو تلنگانہ کی نمائندگی کے لیے بھیجا گیا جو ماضی میں آندھرا پردیش کے اسپیشل چیف سکریٹری رہ چکے ہیں اور تلنگانہ کے پراجکٹس کے خلاف مسلسل مرکز کو مکتوبات روانہ کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعجب ہے ۔ تلنگانہ کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے آفیسر آج ریاست کی طرف سے دلائل پیش کررہا ہے ۔۔ 2