چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی دہلی میں مرکزی وزیر جل شکتی شیخاوت سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 6 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر جل شکتی مسٹر گجیندرا سنگھ شیخاوت سے ملاقات کر کے مختلف آبی پراجکٹس کی تعمیر پر یادداشت پیش کیا ۔ جس میں بتایا کہ گزٹ نوٹیفیکیشن مورخہ 15 جولائی 2021 میں گوداوری بیسن کے 11 عدد پراجکٹس نامنظور ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پراجکٹس تشکیل تلنگانہ سے قبل کے ہیں جس میں 967.94 ٹی ایم سی حصہ کو ریاست کے لیے مقرر کیا گیا ۔ اس میں سے سی ڈبلیو سی نے 758.76 ٹی ایم سی کو پہلے ہی کلیر کردیا ہے جب کہ ہائیڈروجی ڈائرکٹوریٹ نے مزید 148.82 ٹی ایم سی کو کلیر کیا ہے مابقی کو محفوظ رکھا گیا ہے ۔ مذکورہ تفصیلات کے تحت بتایا کہ جی ڈبلیو ڈی ٹی کے تحت 85 ٹی ایم سی کو اچم پلی پراجکٹ کو منظوری دی گئی اور مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش کے ساتھ بین ریاستی معاہدات ہیں جب کہ اندرا ساگر اور راجیو ساگر پراجکٹس فی کس کو 16 ٹی ایم سی مختص کیا گیا ۔ اس کے علاوہ دیوادولہ ایل آئی ایس کے لیے 38 ٹی ایم سی کی پراجکٹ نے منظوری بھی حاصل کرلی ہے ۔ مذکورہ چار پراجکٹس کے لیے ریاستی حکومت نے سیتاراما پراجکٹ کے لیے 70 ٹی ایم سی ، دیوادولہ ایل آئی ایس (توپاکل گوڑم ) کے لیے 60 ٹی ایم سی ، مکتیشور ( چناکالیشورم ) ایل آئی ایس کے لیے 4.5 ٹی ایم سی ، رامپا ۔ پاکھال لنک کے لیے 3 ٹی ایم سی ، موڈی کتہ واگو 2.14 ٹی ایم سی اور چوٹوپلی ہنمنتا ریڈی ایل آئی ایس 0.8 ٹی ایم سی پر مشتمل ہے ۔ اس طرح جملہ 140.44 ٹی ایم سی میں سے 14.56 ٹی ایم سی محفوظ ہے ۔ مذکورہ پراجکٹس حکومت تلنگانہ کے تحت ہے ۔ چیف منسٹر نے مزید بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ نہ ہی اضافی پراجکٹ ہے اور نہ ہی نیا پراجکٹ ہے ۔ اس کو سی ڈبلیو سی کی جانب سے 240 ٹی ایم سی کے ساتھ ریاستی فنڈ کے ذریعہ بالکل مختصر وقت میں تیار کیا گیا ہے ۔ اس کے لیے مرکزی حکومت سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب کہ کنڈکورتی ایل آئی ایس ایک چھوٹی اسکیم ہے جو کہ 3300 ایکڑ پر مشتمل ہے اس کے لیے بھی منظوری کی ضرورت نہیں ہے جب کہ رامپا پاکھال لنک اور تاپوکولہ گنڈم بیاریج دیوادولہ پراجکٹ کا ایک حصہ ہے اس کے لیے بھی نئی منظوری کی ضرورت نہیں ہے جب کہ گڈم ایل آئی ایس کڈم پراجکٹ کا منظورہ حصہ ہے اس کے لیے منظوری کی ضرورت نہیں ہے ۔ لہذا انہوں نے مرکزی حکومت سے خواہش کی کہ وہ جی آر ایم بی اور سی ڈبلیو سی کو ضروری اقدام کی ہدایت جاری کریں ۔۔