حیدرآباد،4ستمبر(یواین آئی) آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس اور نیشنل فیڈریشن آف انڈین روڈ ٹرانسپورٹ ورکرس سے ملحقہ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ایمپلائیز یونین نے آج مختلف زیرالتواء مسائل بشمول آرٹی سی کے حکومت میں انضمام پر انتظامیہ کو ہڑتال کی نوٹس دی ہے ۔ ملازمین توقع ہے کہ17ستمبر سے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع کردیں گے ۔ یونین کے مطالبات میں محکمہ آرٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے ’ آرٹی سی ڈرائیورس اور کنڈکٹرس کی ملازمتوں کی ضمانت کے علاوہ پے اسکیل ریویژن 2017ء کی سفارشات پر عمل آوری شامل ہیں۔ آرٹی سی ایمپلائیز یونین کے صدر ایس بابو اور جنرل سکریٹری کے راجی ریڈی کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو حکومت میں ضم کرنے کی تجویز اکتوبر2013ء میں پیش کی گئی تھی اور ایک جی او بھی جاری کیا گیاتھا لیکن حکومت نے اس تعلق سے مزید کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران کارپوریشن میں کوئی راست تقررات نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں پر کام کے بوجھ میں اضافہ ہوگیا۔ یونین نے خاتون ملازمین کو بچوں کی دیکھ بھال کے لئے جو رخصت دی جاتی ہے اس میں اضافہ کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم پڑوسی حکومت آندھراپردیش نے آندھراپردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو حکومت میں ضم کرنے کے لئے منگل کو اے پی پبلک ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی تشکیل کو منظوری دیدی ہے ۔ اس دوران تلنگانہ ریاستی بی جے پی کے صدر ڈاکٹر کے لکشمن نے کل ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محکمہ آرٹی سی کو 1000کروڑ روپئے کے بقایاجات ادا کئے جائیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکمراں ٹی آر ایس نے اپنے جلسوں کے لئے آرٹی سی بسوں کا استعمال کیا لیکن بلز ادا نہیں کئے گئے۔
اور اگر وزیراعلی ’ تلنگانہ کے محکمہ آرٹی سی کو مزید نقصانات سے دوچار کرتے ہوئے اس کی نجی کاری کے اقدامات کریں گے تو بی جے پی اس کی سخت مخالفت کرے گی۔