تلنگانہ کے اضلاع اور شہر میں پٹرول ، ڈیزل اور گیاس کی قلت!

,

   

پٹرول پمپس اور سوپر مارکٹس پرعوام کی طویل قطاریں،پٹرولیم اشیاء کی کوئی قلت نہیں، حکومت کی وضاحت

محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔24۔مارچ۔’مودی ہے تو ممکن ہے‘ نے ہندستان میں ہر اس شئے کو ممکن بنادیا ہے جس کا تصور بھی ہندستانیوں نے نہیں کیا تھا ‘2014 کے بعد سے ملک میں نعروں کی حکومت چل رہی ہے اور جو نعرے مشہور ہوئے ان میں سب سے زیادہ معروف نعرہ ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ رہا اور بھکتوں نے ہر طرح کے حالات میں اس نعرہ کا سہارا لیتے ہوئے وزیر اعظم کی تائید کی ۔ ایران۔امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگی حالات کا اثر اب راست ہندستان پر دیکھا جانے لگا ہے اور ملک کے مختلف شہروں کے ساتھ ریاست تلنگانہ کے اضلاع اور دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں گیس ‘ پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے علاوہ خوف کے عالم میں خریداری شروع ہوچکی ہے۔ 6سال قبل 24 مارچ2020 کو جن حالات کا سامنا ہندستان کے شہریوں کو تھا آج24مارچ2026 کو بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے راجیہ سبھا میں بیان اور گذشتہ یوم لوک سبھا میں دیئے گئے بیان کے بعد دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں خوف کے عالم میں عوام جمع خوری میں مصروف ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی دکانات پر گاہکوں کا ہجوم ریکارڈ کیا جارہا ہے۔پٹرول پمپ ‘ سوپر مارکٹس ‘ ترکاری کے منڈی اور کئی مقامات پر لوگ پریشانی کے عالم میں خریداری کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں کئی پٹرول پمپوں کے علاوہ گیس اسٹیشنوں پر طویل قطاریں دیکھی جار ہی تھیں لیکن دوپہر کے بعد سے اجناس کی خریدی پر بھی اچانک لوگ ٹوٹ پڑے جس کے نتیجہ میں کئی سوپر مارکٹس میں ہجوم دیکھا گیا۔ شہر حیدرآباد میں ہونے والی اس ہنگامی اور خوف کے عالم میں خریداری کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے اس بات کی وضاحت کی گئی کہ ایل پی جی ‘ سی این جی ‘ پٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہے اس کے باوجود بھی عوام نے حکومت کے اعلان پر توجہ دینے کے بجائے خریداری پر توجہ مرکوز رکھی حالانکہ محکمہ سیول سپلائز نے ریاست میں کسی بھی شئے کی قلت نہ ہونے کا واضح اعلان کیا ۔ پٹرول پمپ اور گیس اسٹیشنوں پر ’نو اسٹاک‘ کے بورڈ آویزاں کئے جانے کے بعد شہریوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا اور شہر کے کئی مقامات پر اسٹاک نہ ہونے کی بنیاد پر پمپ اور گیس اسٹیشن بند کردیئے گئے ۔ پٹرول پمپ مالکین و ڈیلرس کا کہناہے کہ انہیں درکار مقدار میں پٹرول ‘ ڈیزل اور گیس حاصل نہ ہونے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں میں آج دن بھر کے دوران زائد از80 فیصد پٹرول پمپ بند رہے اور کئی مقامات پر پکوان گیس سیلنڈر کے حصول کے لئے شہریو ںکو ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے دیکھا گیا تو کئی مقامات پر پکوان گیس کے لئے طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ قلب شہر مانصاحب ٹینک کے علاقہ میں گیس سربراہ کرنے والے آٹو کو روکتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی شکایات موصول ہوئیں اور اس سلسلہ میں صارفین اور سربراہ کرنے والوں کے درمیان ہونے والی ہنگامہ آرائی کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ۔ آٹو ڈرائیورس کی اپنے آٹو میں گیس بھروانے کل رات سے کئی گیس اسٹیشنوں پر طویل قطاریںدیکھی گئیں۔ حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے اضلاع کے عوام میں خوف کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خوف کے عالم میں خریداری سے اجتناب کریں لیکن عوام کسی بھی اپیل پر توجہ دینے کے بجائے آئندہ چند ماہ کا راشن جمع کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے نظر آئے۔ ملک میں بے روزگار کے مسئلہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے پکوڑے فروخت کرنے کے مسائل کو حکومت کے سامنے پیش کرنے پر خود حکومت اور بھکتوں نے کہا تھا ’’پکوڑے تلنا اور فروخت ‘‘ کرنا بھی ایک کاروبار ہے لیکن اب گیس کی قلت کے بعد پکوڑے فروخت کرنا بھی ممکن نہیں رہا اور یہ سب ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ ۔ملک میں پھیل رہی بے چینی کے متعلق شہریوں کا کہناہے کہ خوف کے عالم میں ہونے والی خریداری کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے ذہن سازی کرنے والے بیانات ہیں اورعالمی حالات کے تناظر میں مرکزی حکومت کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کے نتیجہ میں عوام خوف وہراس کے عالم میں خریداری پر مجبور ہونے لگے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ نوٹ بندی کے علاوہ کورونا وائرس کے نتیجہ میں پیدا شدہ حالات میں حکومت نے جس طرح کی بے بسی کا اظہار کیا تھا اسی طرح کے حالات اب دوبارہ پیدا ہونے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی صنعتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان روزگار سے محروم ہونے لگے ہیں ۔ روزگار سے محروم ہونے والے نوجوانو ںکا کہناہے کہ ملک میں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں اور جن حالات کا سامنا آئندہ دنوں میں ہندستانی شہریوں کو کرنا پڑے گا وہ بھی ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘۔