تلنگانہ کے بشمول 4 ریاستوں میں کانگریس کا اقتدار یقینی

   

10 برس میں کے سی آر نے تلنگانہ کو ناقابل تلافی نقصان پہونچایا ۔ عمران پرتاپ گڑھی

حیدرآباد 19 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس سادہ اکثریت سے حکومت تشکیل دیگی۔ ریاست میں کسی گوشے کو کانگریس کی تشکیل حکومت پر مشتبہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب عمران پرتاپ گڑھی رکن راجیہ سبھا و صدرنشین اے آئی سی سی میناریٹی سیل نے آج سوشل میڈیا ذمہ داروں سے بات چیت میں اِن خیالات کا اظہار کیا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہاکہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ راجستھان ، مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں کانگریس بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کر رہی ہے۔ اُنھوں نے چار ریاستوں کے انتخابات کو 2024 عام انتخابات کا سیمی فائنل قرار دیتے ہوئے کہاکہ 2024 میں مودی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے ضروری ہے کہ اِن تمام ریاستوں میں کانگریس کو اقتدار میں لایا جائے۔ اُنھوں نے بابری مسجد شہادت کے متعلق سوالات اور کانگریس پر الزامات کے متعلق کہاکہ یقینا بابری مسجد کی شہادت ایک سانحہ ہے اور اِس وقت کانگریس اقتدار میں تھی، لیکن جو حالات پیدا ہوئے تھے اُس کا خمیازہ کانگریس بھگت چکی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ آج ملک کا دستور خطرہ میں ہے اور آئین کے تحفظ کیلئے آپسی اختلافات و رنجشوں کو دور کرکے کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال ضروری ہے۔ اُنھوں نے تلنگانہ میں اپنے بل پر کانگریس کی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ تلنگانہ کے اضلاع اور قریوں کا دورہ کرنے کے بعد وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کی سونامی آئی ہے۔ اُنھوں نے تلنگانہ میں بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر الزام عائد کیاکہ کے سی آر نے 10 برسوں میں تلنگانہ کو جو نقصان پہنچایا ہے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جناب عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ کانگریس کو عوامی تائید کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی آر جگہ جگہ عوام کے درمیان پہونچ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ بی آر ایس قائدین عوام کے درمیان رہیں گے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اگر بی آر ایس قائدین گزشتہ 10 برسوں میں اِسی طرح عوام کے درمیان ہوتے تو اُنھیں اِس قدر مشکل صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ رکن راجیہ سبھا کانگریس نے چیف منسٹر اور اُن کے فرزند سے استفسار کیاکہ گزشتہ دس برسوں میں وہ کہاں تھے اور کیوں عوام کے درمیان نہیں رہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت کا دعویٰ کیا اور کہاکہ جب کبھی پارلیمنٹ میں بی جے پی کو مشکل پیش آئی اُس وقت بی آر ایس بی جے پی کی مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اُنھوں نے شراب اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کے کویتا ایم ایل سی کو گرفتار نہ کرنے پر کہاکہ جس مقدمہ میں ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سیسوڈیا 6 ماہ سے اور رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ دیڑھ ماہ سے جیل میں ہیں، اُسی مقدمہ کی چارج شیٹ میں نام ہونے کے باوجود انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے کویتا کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے استفسار کیاکہ آخر یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے۔