تلنگانہ کے بیشتر مریضوں پر اینٹی بائیوٹک بے اثر

   

ادویات کے بے دریغ استعمال سے صحت متاثر ، عوام کو غیر ضروری ادویات ترک کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔3 مارچ۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے بیشتر مریضوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات اثر نہیں کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں گذشتہ دو برسوں کے دوران کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ صورتحال کے دوران علاج و معالجہ کے لئے سب سے زیادہ استعمال میں لائی جانے والی ادویات میں اینٹی بائیوٹک ادویات رہیں جن کا استعمال بے دریغ کیا جا تا رہا ہے لیکن گذشتہ دنوں چند مریضوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے اثرانداز نہ ہونے کی شکایات کے بعد ان کے معائنوں سے یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ کئی مریضوں پر 11 مختلف اقسام کے اینٹی بائیوٹک بھی اثر نہیں کر رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق کورونا وائرس کے دور میں ان ادویات کے بے دریغ استعمال اور معمولی بخار اور سردی میں بھی ان ادویات کے استعمال کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اسی لئے فوری طور پر غیر ضروری ادویات کے استعمال کو ترک کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران کی گئی تحقیق میں ہوئے اس انکشاف کے بعد ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں انسانی جسم پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے سروے کروایا جانا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی طرح کی ابتدائی بیماریوں میں ان ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ان کے جسم میں موجود قوت مدافعت میں اضافہ ہواور جن شکایات میں وہ مبتلاء ہیں وہ فوری طور پر دور ہونے لگ جائیں لیکن اضافی مقدار میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اب مریضوں میں نظر آنے لگے ہیں اور اگر انہیں فوری حل نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اینٹی بائیوٹک ادویات میں پائی جانے والی قوت مزاحمت کے جسم پر کوئی اثرات نہیں ہوں گے اور ادویات کے اثرانداز نہ ہونے کی صورت میں مریضوں کا ادویات کے ذریعہ علاج کرناانتہائی مشکل ہوتا چلا جائے گا ۔ماہرین کے مطابق حکومت اور محکمہ صحت کو جلد ہی ریاست کے تمام اضلاع میں اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت کی جانچ کے لئے سروے کروانے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ اگر بیشتر تمام اینٹی بائیوٹک ادویات کا انسانی جسم پر اثر ہونا بند ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں کئی امراض کے علاج بالخصوص معمولی درد کو دور کرنے کے لئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔م