تلنگانہ کے تاریخی و تہذیبی ورثہ کو تحفظ اور ترقی دینے حکومت سنجیدہ

   

گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو اور قطب شاہی پارک کے احیاء کی تقریب ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

حیدرآباد۔28 جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست میں موجود تاریخی وتہذیبی ورثہ کے تحفظ اور اس کی ترقی کے ذریعہ اسے عالمی نقشہ پر نمایاں کرنے کے متعلق سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو اور آہک پاشی کے علاوہ قطب شاہی پارک کے احیاء کی تکمیل پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ریاست میں موجود تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اس ریاست میں رامپا مندر موجود ہے جو کہ یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ہندستان کے اس خطہ تلنگانہ پر مختلف حکمرانوں نے اپنے دور اقتدار کے دوران اپنی تہذیبی روایات پر مشتمل جو نشانیاں چھوڑی ہیں وہ اب بھی موجود ہیں۔مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ اس خطہ میں ساتاواہنا ‘ کاکتیہ ‘ قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں نے حکومت کی جس کے نتیجہ میں اس علاقہ کی تہذیب گنگاجمنی ہے اور ان حکمرانوں کی نشانیاں اب بھی موجود ہیں۔ اس خطہ کی تاریخ ہزاروں سال پر مشتمل ہے اور اس علاقہ میں تہذیبی و تمدنی علامات پائے جاتے ہیں۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے تعاون و اشتراک کے ساتھ مکمل کیا گیا یہ کام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور آئندہ نسلیں تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے کئے گئے ان اقدامات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی تاریخ کے متعلق معلومات حاصل کریں گی۔چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ملک بھر کی ریاستوں میں تہذیبی و تعمیری شاہکاروں کا مرکز ہے ۔ انہو ںنے چارمینار ‘ گولکنڈہ‘ گنبدان قطب شاہی ‘ ہزار ستون کا مندر‘ عالم پور مندر کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تلنگانہ علاقہ کی تاریخ کس قدر قابل فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کو دنیا بھر میں اس شہر کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے جانا جاتا ہے جو کہ اس شہرکے مکینوں میں اب بھی موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ گنبدان قطب شاہی کے احاطہ میں موجود 100 سے زائد تہذیبی ورثہ کی نشانیوں کا احیاء اور انہیں اصلی حالت میں لانے کے اقدامات جو کہ 106 ایکڑ پر محیط احاطہ میں واقع ہیں اس کے لئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال 2013 میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا اور آج ان کاموں کو مکمل کیا گیا ہے۔اس پروگرام میں پرنس رحیم آغاخان کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھیں ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے گنبدان قطب شاہی کے دائرہ میں موجود تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر اس پراجکٹ میں شامل تمام افراد سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ اس پراجکٹ کومکمل کیا جاچکا ہے اور اس پراجکٹ میں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کی تائید حاصل رہی اور جن لوگوں نے اس پراجکٹ کی تکمیل کے سلسلہ میں کسی بھی طرح سے تعاون کیا ہے اس کے لئے وہ ان کے مشکور ہیں۔ اس پروگرام میں ریاستی وزیر مسٹر جوپلی کرشنا راؤ‘ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی ‘ قونصل جنرل امریکہ متعینہ حیدرآبادجینفرلارسن دیگر اہم شخصیات اور عہدیداروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔3