اسکولس کی سطح پر مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ ۔ طلباء کی بہتر نشو و نما کی امیدیں
حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) تعلیمی سال 2025-26 ہندستانی بالخصوص تلنگانہ کے تعلیمی اداروں کیلئے انقلابی رہے گا اور نصاب تعلیم میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مضامین کی شمولیت کے علاوہ تعلیم میں AI کا استعمال لازمی ہوجائے گا!دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو فروغ کو دیکھتے ہوئے اسے شامل نصاب کرنے اقدامات تیز کئے جانے لگے ہیں اورسرکاری اسکولوں میں تجرباتی اساس پر مصنوعی ذہانت سے متعلق مواد کو شامل کرنے کے فیصلہ کے بعد بیشتر خانگی و کارپوریٹ اسکولوں میں AI سے متعلق نصاب کی شمولیت کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ کورونا وائرس کے دوران آن لائن ڈیجیٹل کلاسس کے بعد اسمارٹ کلاس رومس عام بات ہوگئی تھی لیکن مصنوعی ذہانت کی دنیامیں تیز رفتار ترقی کے بعد اب اسکول سے مصنوعی ذہانت سے متعلق نصاب طلبہ کے نصاب میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ اگر کوئی اسکول یا تعلیمی ادارہ مصنوعی ذہانت سے متعلق مواد شامل نصاب نہیں کرتا ہے تو اس اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ گذشتہ ایک سال میں مصنوعی ذہانت نے جس تیزی کے ساتھ فروغ حاصل کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی حالانکہ ریاست کے بیشتر خانگی اسکولوں میں آن لائن تعلیم ‘ اسمارٹ فونس کے ذریعہ درس و تدریس کے عمل کو شروع کیا جاچکا ہے اور تعلیم کیلئے عصری سہولتوں اور ٹکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جارہا ہے لیکن تعلیمی اداروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے فروغ پر اب بھی دورائے دیکھی جا رہی ہے اور کہاجا رہاہے کہ ابتدائی دور سے طلبہ کو AI کی تعلیم دینے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کے متعلق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کی تائید کرنے والوں کا کہناہے کہ مسابقتی دور میں طلبہ کو اگر مصنوعی ذہانت سے دور رکھا گیا تو انہیں کوئی کامیابی نہیں ملیگی کیونکہ طلبہ موبائیل کے ذریعہ AI کی خرافات جاننے کے بعد اسے قبول کرنے لگ جائیں گے اسی لئے ابتدائی دور سے ہی طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم دی جانی چاہئے اور اگر ابتدائی تعلیم میں ہی AI کو شامل کیا جائے تو اسکولوں میںمصنوعی ذہانت سے واقف عملہ کا بھی تقرر کرنا ہوگا ۔ دنیابھر میں تعلیم کے میدان میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو کئی ترقی یافتہ ممالک نے اپنے اسکولی نصاب میں ہی مصنوعی ذہانت سے متعلق ابتدائی معلومات کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے اور ہندوستان بھر میں ان ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نصاب کو دیکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور سرکاری اسکولوں میں اس تجربہ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔3