فیس بازادائیگی و اسکالرشپس کے بقایا جات کی فوری اجرائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔28۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں فیس بازادائیگی اور اسکالر شپس بقایا جات کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرتا جا رہاہے اور اس مسئلہ پر اب 10لاکھ طلبہ ریاست بھر میں احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں طلبہ کی فیس بازادائیگی اسکیم اور اسکالرشپس کی عدم اجرائی کے خلاف تلنگانہ کے خانگی اور پروفیشنل کالجس نے 3 نومبر سے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان کیا ہے اورطلبہ تنظیموں سے بھی اس بند کی تائید کرنے کی اپیل کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتوں کا بھی سلسلہ شروع کردیا ہے۔ تلنگانہ کے خانگی کالجس کی تنظیم کی جانب سے دسہرہ سے قبل 15ستمبر سے کالجس کے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ایک روزہ بند کے بعد ہی ریاستی حکومت سے شروع ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی جانب سے 600 کروڑ کی اجرائی کے تیقن پر بند سے دستبرداری اختیارکرلی گئی تھی لیکن حکومت نے 600 کروڑ جاری نہ کرتے ہوئے دیوالی سے قبل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن دیوالی کے بعد بھی ان 600 کروڑ کی عدم اجرائی کے بعد خانگی کالجس کی تنظیم نے اب 3نومبر سے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے قائدین کے علاوہ سیاسی قائدین اور عوامی منتخبہ نمائندوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے۔خانگی کالجس کے ذمہ داروں نے بتایا کہ حکومت کو دی گئی نوٹس کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے 1 نومبر تک کالجس کے بقایا جات میں 900 کروڑ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں 3نومبر سے غیر معینہ مدت کے بند کا آغاز کردیا جائے گا اور 10 نومبر کے بعد ریاست بھر میں طلبہ کی جانب سے ’’چلو حیدرآباد‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے 10لاکھ طلبہ کو حیدرآباد پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ ان کے فیس بقایا جات اور اسکالرشپس کی اجرائی کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ذرائع کے مطابق خانگی کالجس کے ذمہ داروں کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا ہے کہ ریاست میں طلبہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے اقدامات کئے جائیں کیونکہ حکومت کی جانب سے بقایا جات کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں نہ صرف کالج انتظامیہ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ طلبہ کو بھی اپنے اسنادات حاصل کرنے میں ہونے والی دشواریوں کے سبب کئی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ طلبہ تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے بھی ریاست میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر کئے جانے والے اس احتجاج میں شامل ہونے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی پر غور کیا جانے لگا ہے اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے اس سلسلہ میں اپنے احتجاجی پروگرام کا اعلان بھی کردیا ہے۔3