بی آر ایس سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کو بدنام کررہی ہے
حیدرآباد : یکم مئی ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے دو مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کو تلنگانہ کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ۔ کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کی جانب سے تلنگانہ میں کرائے گئے ذات پات کی مردم شماری کو جھوٹ کا پلندہ اور بی سی طبقات میں اختلافات پیدا کرنے کا سبب قرار دینے کی سخت مذمت کی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے ایک منظم سازش کے تحت کانگریس حکومت کو نشانہ بنارہی ہے اور ہر اسکیم اور پالیسی کی اندھی مخالفت کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ذات پات کی مردم شماری کرانے کے فیصلہ کی کانگریس پارٹی نے تائید و حمایت کرتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے ، کیونکہ راہول گاندھی کے نظریہ کو مرکزی حکومت اپنارہی ہے ۔ ملک میں ذات پات کا سروے کرانے سے کونسے طبقہ کی کتنی آبادی ہے نہ صرف اس کا اندازہ ہوجائے گا بلکہ ترقیاتی و فلاحی کاموں کی انجام دہی میں بہت بڑی مدد حاصل ہوگی لیکن تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے دو مرکزی وزراء تلنگانہ کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ آج تک ان مرکزی وزراء نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کیلئے کوئی خاص بجٹ منظور نہیں کرایا اور نہ ہی قومی تعلیمی اداروں کے علاوہ مرکزی اسکیمات سے تلنگانہ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ ہر وقت حکومت کے فیصلوں ، پالیسیوں اور اسکیمات کی مخالفت کرتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کانگریس حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کا بل اسمبلی میں بی جے پی کے 8ارکان اسمبلی کی موجو دگی میں منظور کراتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کیا ہے ۔ اگر دونوں مرکزی وزراء کو بی سی طبقات سے تھوڑی سی بھی ہمدردی ہے تو اس بل کو منظور کراکر دکھائے ۔کانگریس حکومت نے ریاست میں بی سی طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات کی قرارداد منظور کی ہے ۔ مرکزی حکومت ریزرویشن کے 50فیصد حد کو فوری برخواست کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں نئی قانون سازی کرائی ہے اور اس کیلئے دونوں مرکزی وزراء وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کریں ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی کارکردگی سے دونوں مرکزی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ 2