طبی عملہ کی کمی، سرکاری دعوے کھوکھلے ثابت، مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد۔/13 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں معیاری طبی خدمات تو دور اب طبی سہولیات بھی غیریقینی صورتحال کا شکار ہوگئی ہیں۔ طبی خدمات فراہم کرنے والے عملے کی کمی سرکاری دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کررہی ہے۔ دواخانوں میں عملہ کی کمی اور ان کے تقررات کو عمل میں نہ لانا بڑی وجہ مانا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں مرکزی محکمہ صحت وخاندانی بہبود نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں تلنگانہ کے حالات اور حقیقت کو پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق دیہی تلنگانہ میں ڈاکٹرس کی جائیدادیں بڑی تعداد میں مخلوعہ ہیں۔ پرائمری ہیلت سنٹرز کے علاوہ عام ہیلت سنٹرز، ایریا اور ضلع ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس کی جائیدادیں مخلوعہ پائی جاتی ہیں۔ مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق پرائمری ہیلت سنٹر پر مضر اثرات ہونے کے قوی امکانات ماہرین جتارہے ہیں۔ ان مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات سے دیہی علاقوں کی عوام کو معیاری طبی امداد کے وعدہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ سال 01-07-2020 کے درمیان آبادی کے لحاظ سے تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں 2,04,01,000 آبادی پائی جاتی ہے اور شرائط کے مطابق اس آبادی کے لئے 76 پرائمری ہیلت سنٹرس ہونا چاہیئے لیکن فی الحال636 پی ایچ سی ہی پائے جاتے ہیں جبکہ 4,744 ہیلت سنٹرس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن 4,450 پائے جاتے ہیں ۔ 191 ایریا ہاسپٹلس میں 85 سنٹرس پائے جاتے ہیں۔ 4,244 ہیلت سنٹرس میں مرد و خواتین کیلئے بیت الخلاء کا کوئی علحدہ انتظام نہیں ہے جبکہ پی ایچ سی اور سی ایس سی میں یہ سہولت پائی جاتی ہے۔ ریاست میں 1,273 ہیلت سنٹرس کیلئے سرکاری عمارت پائی جاتی ہے جبکہ 2,694 کرایہ کے ،777 پنچایت اور دیگر رضاکارانہ اداروں کی عمارتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان تمام 3,471 کیلئے نئی تعمیرات کی جانی چاہیئے۔ ہر ایک ہزار شہریوں کی آبادی میں اندرون ایک سال دیہی علاقوں میں 30 اور شہری علاقوں میں 21 بچے فوت ہورہے ہیں۔ ملک بھر میں یہ فیصد 32 پایا جاتا ہے، تلنگانہ میں 27 فیصد ہے۔ تلنگانہ کے 636 پرائمری ہیلت سنٹرس میں 24 گھنٹے خدمات انجام دینے والے 324 سنٹرس ہیں یعنی 50.9 فیصد جہاں 4 بستروں کی گنجائش رہتی ہے۔ اس طرح 90.4 فیصد پرائمری ہیلت سنٹرس میں ٹیلی فون ، کمپیوٹرس، ایمبولنس کی سہولیات پائی جاتی ہیں۔ انڈین پبلک ہیلت اسٹینڈرڈ شرائط کے مطابق ریاست میں 337 پی ایچ سی چلائے جارہے ہیں۔ ریاست کے 85 سی ایچ سی سنٹرس میں 4 اسپیشلسٹ ڈاکٹرس صرف 45 سنٹرس میں پائے جاتے ہیں۔ سی ایچ سی میں 85 آیوش اسپیشلسٹ کی جائیدادیں ضروری ہیں لیکن ایک پر بھی منظوری نہیں کی گئی۔ع