ریاست کے ساتھ بجٹ میں ناانصافی، بہار پر مرکز کی خصوصی توجہ، سی پی آئی کا الزام
سدی پیٹ۔ 2 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ایک بار پھر ناانصافی کی گئی ہے، سی پی آئی ضلع سکریٹری مند پون نے یہ بات کہی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے لیے کوئی خصوصی فنڈز مختص نہیں کیے گئے، جب کہ بہار میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں اور خصوصی فنڈز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 8 بی جے پی اراکین پارلیمنٹ مرکز میں اپنی حکومت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس میں چھوٹ کو بی جے پی بڑی ریلیف کے طور پر پیش کر رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم سے متعلق قانون کو بی جے پی نے نظرانداز کر دیا ہے۔ تلنگانہ کے قبائلی یونیورسٹی کے لیے فنڈز کی ناکافی فراہمی کو انہوں نے بی جے پی کی ’سوتیلی ماں جیسا سلوک‘ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پسماندہ اضلاع جیسے عادل آباد میں بی جے پی کا ایم پی منتخب ہوا، لیکن وہاں خصوصی فنڈز اور ترقیاتی منصوبے نظرانداز کیے گئے۔ مند پون نے کہا کہ لاکھوں نوجوانوں کے روزگار کا ذریعہ بننے والے بایرام اسٹیل پلانٹ کو نظرانداز کرنا زیادتی ہے۔ قاضی پیٹ کوچ فیکٹری کے لیے ضروری فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور منوگورو۔ راماگنڈم ریلوے لائن کو بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے ترقی نہیں بلکہ ووٹ اور سیٹیں پہلی ترجیح بنی ہوئی ہیں۔ 2025-26 کے لیے 50 لاکھ 65 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا گیا، لیکن تلنگانہ کو ایک پیسہ بھی خصوصی طور پر نہیں دیا گیا، جو کہ بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہار اور دہلی کو خصوصی توجہ دی گئی۔