کے سی آر حکومت میں تمام طبقات کی یکساں ترقی،کونسل کی انتخابی مہم سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے تلنگانہ کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں ایم ایل سی انتخابات کے رائے دہندوں کو ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرانا چاہیئے۔ حیدرآباد کے دومل گوڑہ میں پنگلی وینکٹ راما ریڈی ہال میں منعقدہ انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیاس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے ذریعہ عوام پر ناقابل برداشت بوجھ عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے جبکہ برسراقتدار آنے کے 100 دن میں قیمتوں میں کمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیاس سلینڈرکی قیمت 414 روپئے سے 875 روپئے ہوگئی جس کیلئے نریندر مودی حکومت ذمہ دار ہے۔ تلنگانہ سے کئے گئے تمام وعدوں سے انحراف کرلیا گیا ہے۔ تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ میں ریلوے کوچ فیکٹری اور گریجن یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دونوں وعدوں سے انحراف کرلیا گیا۔ مرکزی حکومت سے سوال کرنے کیلئے قابل ایم ایل سی کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے موجودہ رکن کونسل رامچندر راؤ تلنگانہ کے حقوق پر لب کشائی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ گذشتہ چھ برسوں کے دوران انہوں نے تلنگانہ کے نوجوانوں بالخصوص بے روزگار نوجوانوں کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ٹی آر ایس کی جانب سے کونسل انتخابات میں تمام طبقات کی تائید حاصل کرنے کی مہم کے حصہ کے طور پر برہمن سماج سے تعلق رکھنے والوں کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں حکومت کے مشیر کے وی رمنا چاری، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر لکشمی کانت راؤ، رکن اسمبلی ایم گوپال، ایم ایل سی پی ستیش، صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم اور پارٹی کے دیگر قائدین نے شرکت کی۔ کے ٹی آر نے کہاکہ تلنگانہ میں حکومت تمام مذاہب اور تمام طبقات کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤنے ملک میں ترقی اور فلاح و بہبود کی مثال قائم کی ہے۔ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے ملک کیلئے جو گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ان کی دختر وانی دیوی قابل شخصیت کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے وانی دیوی کی کامیابی کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر نے برہمن طبقہ کی بھلائی کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ سدی پیٹ کے رکن اسمبلی کی حیثیت سے کے سی آر نے برہمن سدن قائم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 6000 پجاریوں کو سرکاری ملازمین کی طرح تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ وانی دیوی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرتے ہوئے بی جے پی کو سبق سکھائیں جو ہر سطح پر عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔