تلنگانہ کے سرحدی اضلاع میں ماویسٹوں کی پھر ایکبار آواز بلند

   

دھرانی پورٹل پر تنقیدی پوسٹرس ، انتخابات سے عین قبل سرگرمیوں پر پولیس کے لیے الجھن
حیدرآباد : /30 اگست (سیاست نیوز) ریاست میں عوامی مسائل پر ماوسٹوں نے پھر ایک مرتبہ اپنی آواز بلند کی ہے ۔ ریاست کے سرحدی اضلاع میں ماوسٹوں کی سرگرمیوں سے پریشان پولیس کے لئے اب ایک تازہ واقعہ نے الجھن پیدا کردی ہے ۔ تاہم ماوسٹوں کی سرگرمیوں پر سخت نظر اور تحریک کو بے اثر قرار دینے والی ریاستی پولیس کے لئے عین انتخابات سے قبل ماوسٹوں کا دوبارہ سرگرم ہونا مشکلات کا سبب بن گیا ہے ۔ بھوپال پلی ضلع میں ماوسٹوں کے پمفلٹ ظاہر ہوئے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی کے نام سے ظاہر ہوئے ان پمفلٹ میں ماوسٹوں نے دھرانی پورٹل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دھرانی پورٹل کو زرعی شعبہ کے دیوالیہ کا سبب قرار دیا ۔ ماوسٹوں کے پمفلٹ میں دھرانی پورٹل کو زرعی شعبہ کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ کئی دہوں کے بعد ریاست میں پیدا شدہ زرعی انقلاب کو دھرانی پورٹل کے ذریعہ تباہ کیا جانے لگا ہے ۔ زمیندارانہ جاگیری نظام اور سرمایہ داروں کی بنیادوں کو ہلانے والی تحریکوں کے ذریعہ کئی قربانیوں کے بعد ریاست میں زرعی انقلاب پیدا ہوا لیکن اب ایک دوسرے طریقہ سے دوبارہ اس تباہی والے نظام کو پیدا کیا جارہا ہے اور اس کے لئے پولیس کو استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ ماوسٹوں کے پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے سرمایہ داروں ۔ عوامی منتخبہ نمائندوں ، کنٹراکٹرس اور لوکل باڈیز کے ذریعہ دوبارہ آمرانہ نظام کو قائم کیا جارہا ہے ۔ ماوسٹوں نے ان افراد کو غنڈہ عناصر سے تعبیر کیا اور ریاست کے پولیس اسٹیشنس کو پنچایت کے اڈے قرار دیا ۔ ساتھ ہی زرعی شعبہ سے وابستہ افراد اور کسانوں کو مشورہ دیا کہ بغیر تحریک کے اپنے مسائل کو حل کرنا ناممکن ہے ۔ ع