سی اے جی رپورٹ میں انکشاف، جانا ریڈی تلنگانہ کے اصلی ہیرو، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے سی اے جی رپورٹ میں تلنگانہ کے مختلف سرکاری محکمہ جات میں 10,000 کروڑ روپئے کی بے قاعدگیوں سے متعلق انکشافات پر مرکز کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ سی اے جی اور 15 ویں فینانس کمیشن نے ٹی آر ایس حکومت کی مالی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے معاشی امور کا جائزہ لینے والی سی اے جی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 ء سے ریاست کے مختلف محکمہ جات اور سرکاری ادارہ مالی بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں۔ سی اے جی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ 2903 انسپکشن رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے 10,000 کروڑ کی بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا ہے ۔ حکومت اس سلسلہ میں سی اے جی کو کوئی جواب نہیں دے گی ، لہذا مرکز کو چاہئے کہ وہ مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت معیشت میں بہتری کا دعویٰ کر رہی ہے حالانکہ بیشتر محکمہ جات میں سرکاری رقومات کا بے جا استعمال ہوا ہے۔ 15 ویں فینانس کمیشن نے انکشاف کیا کہ حکومت قرض کی رقم کو آمدنی کی طور پر پیش کر رہی ہے۔ دونوں مرکزی اداروں نے حکومت کی بے قاعدگیوں کو اپنی رپورٹس کے ذریعہ بے نقاب کیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے کانگریس امیدوار جانا ریڈی کے خلاف چیف منسٹر کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ جانا ریڈی کو مستقل آرام دیا جائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جانا ریڈی علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے اصلی ہیرو ہیں جبکہ کے سی آر ویلن ثابت ہوئے ہیں۔ جانا ریڈی کے طفیل میں کے سی آر آج تلنگانہ کی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانا ریڈی کی قیامگاہ سے علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ جانا ریڈی کو مرکز کی جانب سے چیف منسٹر کے عہدہ کا پیشکش کیا گیا تھا لیکن انہوں نے علحدہ ریاست کے لئے اس عہدہ کو ٹھکرا دیا ۔ کے سی آر نے تلنگانہ کے قیام کی صورت میں ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی ضمانت جانا ریڈی نے دی تھی لیکن بعد میں کے سی آر اپنی بات سے مکر گئے اور جانا ریڈی کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر دھوکہ دہی میں شہرت رکھتے ہیں اور ہر پارٹی کے قائدین کو انحراف کی حوصلہ افزائی کرنا ان کی عادت ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جانا ریڈی کے کسی بھی فرد خاندان نے سیاست میں قدم نہیں رکھا جبکہ کے سی آر کے 40 افراد خاندان مختلف عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے کے سی آر سے جانا ریڈی کے خلاف بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا اور رائے دہندوں سے اپیل کی کہ تلنگانہ کے حقیقی ہیرو جانا ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں۔