6 ڈی اے زیرالتواء ، پی آر سی پر عمل نہیں کیا گیا ، بقایاجات کی عدم اجرائی سے ملازمین پریشان
حیدرآباد : 29 ڈسمبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج پہلے دن سرکاری ملازمین کے مسئلہ پر ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو اور بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ کے درمیان ٹھن گئی ۔ وقفہ صفر مباحث کے دو ران بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے سرکاری ملازمین کے مسائل کو پیش کیا جس پر وزیر سریدھر بابو نے ردعمل کا اظہار کیا اور ہریش راؤ پر طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا سرکاری ملازمین کے بارے میں بات کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ صفر میں اراکین کی اپیل اور مطالبات پر غور ضرور کیا جاتا ہے ۔ اس سے قبل ایوان میں بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ سرکاری ملازمین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ۔ سرکاری ملازمین کو 6 ڈی اے زیرالتواء رکھنے والی ملک میں تلنگانہ واحد ریاست ہے ۔ کانگریس حکومت قائم ہونے کے دو سال بعد بھی ابھی تک پی آر سی نہیں دیاگیا ۔ انہوں نے فوری پی آر ایس دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ سرکاری ملازمین کیلئے ہیلت انشورنس اسکیم پر بی آر ایس حکومت کی جانب سے جی او جاری کیا گیا تھا ، اس پر عمل کرنے کا کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا ، اس پر بھی فوری عمل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ سرکای ملازمین کے جی پی ایف اور دیگر بقایا جات ، ریٹائرڈ ملازمین کے بھی بقایا جات جاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ریٹائرڈ ایمپلائیز کے بقایاجات جاری نہ کرنے کی وجہ سے 39 ریٹائرڈ ملازمین طبی علاج نہ کرانے کی وجہ سے فوت ہوچکے ہیں ۔ سی پی ایس ایمپلائیز کو او پی ایس ملازمین میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا گیا جس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ گزشتہ 2سال کے دوران سی پی ایس کے تحت ریاستی حکومت کی جانب سے ادا کیا جانے والا کنٹری بیوشن فنڈز کا حکومت نے بیجا استعمال کیا ہے ۔ محکمہ پولیس میں 5 سلنڈر لیو زیرالتواء ہونے کی یاد دہانی کی ۔ ٹی اے ۔ ڈی اے اسٹیشن الاؤنس جاری نہیں کیا جارہا ہے ۔ پولیس ملازمین کی صحت پر بھی خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ 2
