تلنگانہ کے سرکاری و خانگی ڈاکٹروں کی ہڑتال

   

مغربی بنگال کے دیگر ڈاکٹروں سے اظہاریگانگت، طبی خدمات متاثر

حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) مغربی بنگال میں دو جونیئر ڈاکٹروں پر حملہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تلنگانہ کے سرکاری و خانگی دواخانںو کے ڈاکٹرز نے آج بعض منتخب طبی خدمات کا بائیکاٹ کیا ۔ اس دوران ان ڈاکٹروں نے ریاست بھر میں ریالیوں اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ۔ ان ڈاکٹروں نے کولکتہ کے دواخانہ میں جونیئر ڈاکٹروں پر ایک متوفی مریض کے رشتہ داروں کی طرف سے کئے گئے مبینہ حملہ کی مذمت کی ۔ اس مریض کو 10جون کو دوران علاج موت ہوگئی تھی اور اُسی رات رشتہ داروں کے حملے کے بعد مغربی بنگال کے ڈاکٹروں نے 11جون سے ہڑتال شروع کردیا تھا ۔ دواخانوں میں خاطرخواہ سیکورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعدد ڈاکٹروں نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا تھا ۔ مغربی بنگال کے ان ڈاکٹروں سے اظہار یگانگت کیلئے تلنگانہ کے ڈاکٹروں نے بھی انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی طرف سے 24 گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کی اپیل پر آج ہڑتال میں حصہ لیا ۔ حیدرآباد اور ریاست کے دیگر مقامات پر ڈاکٹروں نے دواخانوں کے قریب احتجاجی ریالیوں اور دھرنوں میں حصہ لیا جس کے نتیجہ میں طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کے ڈاکٹرز بھی ماضی میں کئی مرتبہ مریضوں کے رشتہ داروں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں ۔ اس دوران محکمہ صحت کے عہدیدار نے کہا کہ ہنگامی طبی خدمات غیر متاثر رہی لیکن دیگر اطلاعات کے مطابق مریضوں اور تیمار داروں نے ایک روزہ احتجاج کے سبب طبی خدمات میں خلل پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ تلنگانہ جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن ( ٹی جے یو ڈی اے) کے چیرمین پی ایس وجیندر ریڈی نے کہا کہ ’’ ہم بعض منتخب خدمات کے بائیکاٹ کے ذریعہ احتجاج کررہے ہیں ‘‘ ۔