اے ڈی آر کی رپورٹ، کے ٹی آر اثاثہ جات میں 9 ویں مقام پر
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ملک کی مختلف ریاستوں میں وزراء اور ارکان اسمبلی پر درج مقدمات کے بارے میں اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس نے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ مقدمات کے معاملہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کے تمام موجودہ عوامی نمائندوں میں سرفہرست ہیں۔ کے سی آر کے خلاف جملہ 64 مقدمات ہیں جن میں آئی پی سی کی دفعہ 37 کے علاوہ سیکشن 283 کے تحت درج کردہ مقدمات شامل ہیں۔ اثاثہ جات کے معاملہ میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو عوامی نمائندوں میں 9 واں مقام اور قرض کے معاملہ میں پانچواں مقام جبکہ آمدنی کے معاملہ میں کے ٹی آر چوتھے نمبر پر ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر آمدنی کے زمرہ میں دسویں مقام پر ہیں جبکہ اے ڈی آر رپورٹ کے مطابق قرض کے معاملہ میں وہ 9 ویں مقام پر ہیں۔ بی آر ایس کے 59 سیٹنگ ارکان اسمبلی پر کریمنل کیسس درج ہیں اور زیادہ اثاثہ جات کے معاملہ میں ابتدائی تین مقامات پر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ایم جناردھن ریڈی، اوپیندر ریڈی اور ٹی شیکھر ریڈی ہیں۔ 118 ارکان اسمبلی میں 72 پر کریمنل کیسس درج ہیں جن میں سے 59 بی آر ایس ارکان اسمبلی ہیں۔ سنگین نوعیت کے مقدمات کا سامنا کرنے والے 46 ارکان اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کی تعداد 38 ہے۔ 7 ارکان کے خلاف قتل جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔ 93 بی آر ایس ارکان اسمبلی کروڑ پتی کے زمرہ میں آتے ہیں۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق ملک کی دیگر ریاستوں میں وزراء کے خلاف سنگین مقدمات کی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔ مہاراشٹرا میں 20 وزراء میں سے 13، جھارکھنڈ کے 11 میں سے 7 اور تلنگانہ کے 17 وزراء میں 10 کے خلاف سنگین نوعیت کے کیسس درج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 558 ارکان اسمبلی میں 486 کروڑ پتی ہیں۔ 239 وزراء کے خلاف کریمنل کیسس درج ہیں۔ تلنگانہ کے 13، ٹاملناڈو کے 33، بہار کے 21اور پنجاب کے 11 وزراء نے اپنے اوپر درج مقدمات کا الیکشن کمیشن کے حلفنامہ میں اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 ریاستوں اور 2 مرکزی زیر انتظام علاقوں کے 567 وزراء میں 558 کے حلفناموں کا جائزہ لینے کے بعد اے ڈی آر نے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔