تلنگانہ کے عوام ٹی آر ایس حکومت سے بیزار

   

پارٹی سے منحرف قائدین کو ہراسانی کا سامنا، جی ویویک بی جے پی قائد کا الزام
حیدرآباد 5 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے حالیہ عرصہ کے دوران بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے دلت قائد مسٹر جی ویویک نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے کے فوری بعد کسی دلت قائد کو تلنگانہ کا چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کرکے عوام کو دھوکہ دیا۔ اُنھوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ بیزارگی کا اظہار کرکے پارٹی سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین و کارکنوں کے خلاف فرضی مقدمات درج کروائے جارہے ہیں اور ٹی آر ایس سے دوری اختیار کرکے بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین و کارکنوں کو نت نئے طریقوں سے ہراساں کروایا جارہا ہے۔ ریاستی سکریٹریٹ کو منہدم کرنے سے متعلق تذکرہ کرتے ہوئے جی ویویک نے الزام عائد کیاکہ محض اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ کو چیف منسٹر کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے ہی سکریٹریٹ کو منہدم کرنے کے لئے ہرممکنہ کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے چیف منسٹر کی ان کوششوں پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آمرانہ نوعیت کے فیصلے کرتے ہوئے کے سی آر ریاست میں تغلق حکمرانی کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں ریاست میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں باصلاحیت انجینئروں کو نظرانداز کرکے ان کی (چندرشیکھر راؤ کی) تعریف کرنے میں مصروف ریٹائرڈ انجینئرس کے ذریعہ تعمیری کام کروارہے ہیں اور عوامی سرمایہ کو ضائع کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ ویویک نے مزید کہاکہ محض اپنے مفادات کے حصول کے لئے پراجکٹس کے تخمینہ رقومات میں اندھا دھند اضافہ کرکے بھاری رقومات ہڑپنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ انھوں نے چیف منسٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریاست میں خدمات انجام دینے والے پولیس عہدیداروں و ملازمین کو اپنی پارٹی کے کارکنوں کی طرح استعمال کرکے بی جے پی قائدین و کارکنوں کے خلاف فرضی مقدمات درج کروانے کے اقدامات کررہے ہیں۔