سابق صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ کا الزام
حیدرآباد۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق صدرنشین کے سوامی گوڑ نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ کے غدار اقتدار کا مزہ لوٹ رہے ہیں۔ سوامی گوڑ جنہوں نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ کے حقیقی مجاہدین کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ایسے افراد جنہوں نے علحدہ تلنگانہ تحریک کی مخالفت کی تھی وہ اقتدار میں شامل کئے گئے۔ انہوں نے شکایت کی کہ تلنگانہ تحریک سے وابستہ افراد جن کی جدوجہد کے نتیجہ میں علحدہ ریاست قائم ہوئی ہے کے سی آر نے نظرانداز کردیا ہے۔ سوامی گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور دوباک ضمنی چناؤ کے نتیجہ سے اس کا اظہار ہوچکا ہے۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں عوام نے بی جے پی کی تائید کی ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا متبادل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مجلس سے مفاہمت پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے وقت جبکہ حکومت کو واضح اکثریت حاصل ہے پھر مجلس سے درپردہ مفاہمت کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت پر مجلس کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 2023 تک بی جے پی مستحکم ہوجائے گی ۔