چیف منسٹر کے خلاف کے ٹی آر کے بیانات افسوسناک، عبیداللہ کوتوال کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 7۔ مئی (سیاست نیوز) ریاست کو مالیاتی بحران میں مبتلا کرنے کیلئے سابق بی آر ایس حکومت ذمہ دار ہے ، لہذا بی آر ایس قائدین کو چیف منسٹر پر تنقید کا اخلاقی حق نہیں۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن عبید اللہ کوتوال نے آج گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی اور بی آر ایس قائدین کے مخالف چیف منسٹر بیانات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے قائدین تلنگانہ میں ترقی اور فلاح و بہبود کی اسکیمات میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 16 ماہ کے دوران ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے علاوہ نئی اسکیمات شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مالیاتی موقف کے بارے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حق بیانی سے کام لیا تاکہ عوام کو باشعور بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے کے سی آر حکومت نے تلنگانہ کو مقروض بنادیا۔ مالی مشکلات کے باوجود ریونت ریڈی حکومت فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی حق بیانی سے بی آر ایس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال کیلئے بی آر ایس ذمہ دار ہے۔ کے ٹی آر اور ان کے ساتھی حکومت پر الزام ترشی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عبیداللہ کوتوال نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے بی آر ایس کو مسترد کردیا اور کانگریس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ کے باوجود مرکز سے فنڈس حاصل کرنے میں بی جے پی قائدین ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے لئے 6000 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں اور چیف منسٹر کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے 250 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور سیلف ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت معاشی طور پر مستحکم بنانے کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈ ی حکومت کی مخالفت دراصل فلاحی اسکیمات میں رکاوٹ پیدا کرنے کی سازش ہے۔1