نئے ریونیو ایکٹ کی تیاری سے قبل اپوزیشن سے مشاورت کا مطالبہ
حیدرآباد ۔5۔ فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور سابق وزیر قانون ڈی کے سمر سمہا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کا نیا ریونیو قانون عوام کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمرسمہا ریڈی نے کہا کہ کوئی بھی قانون عوام کے فائدہ کیلئے ہونا چاہئے ۔ تلنگانہ میں موجود ریونیو قانون عوام کے حق میں ہے اور اسے تبدیل کرنے کی صورت میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ موجودہ ریونیو ایکٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیا قانون تیار کیا جانا چاہئے لیکن ٹی آر ایس حکومت من مانی طور پر ریونیو ایکٹ تیار کر رہی ہے ، جس سے ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ نئے ریونیو ایکٹ کے لئے کابینی سب کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے تجاویز حاصل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے بارے میں عوام سے رائے اور اعتراضات حاصل کئے جانے چاہئے ۔ اسمبلی اجلاس میں نئے قانون پر مباحث کئے جائے ۔ سمر سمہا ریڈی نے کہا کہ کلکٹرس کانفرنس میں نئے قوانین کے بارے میں فیصلہ کرنا غیر درست ہے کیونکہ نئے کلکٹرس بھی قوانین سے لاعلم ہوتے ہیں۔ نئے قوانین سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا ، اس پر حکومت کو غور کرنا چاہئے۔ سابق وزیر نے کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سمر سمہا ریڈی نے بتایا کہ سابق میں پنچایت راج قانون کی تیاری کیلئے وہ کمیٹی کے صدرنشین تھے ۔ پنچایت راج قانون کے سلسلہ میں عوام کی تائید حاصل کی گئی اور سیاسی جماعتوں کی رائے کو مقدم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سیاسی جماعتوں اور عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی فیصلے کر رہے ہیں ۔ عوام نے من مانی فیصلوں کے لئے اقتدار حوالے نہیں ک یا ۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے نئے قانون کی تیاری مضحکہ خیز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہر محکمے میں کرپشن عروج پر ہوچکا ہے ۔ کے سی آر کو کرپشن پر قابو پانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ نئے قوانین سے کرپشن پر قابو پانا ممکن نہیں ۔