تلنگانہ کے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کے خدشات صحیح ثابت

   

Ferty9 Clinic

ڈبل بیڈ روم اسکیم میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے حصہ کی عدم فراہمی
حیدرآباد۔23۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم میں فلیٹس کی تقسیم کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہا ہے کہ اب تک جو ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے اس میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے حصہ فراہم نہیں کیاگیا ہے۔ اس بات کی مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد مختلف گوشوں کی جانب سے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ جن ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی ان میں قرعہ اندازی سے قبل 12 فیصد مسلمانوں کو فلیٹس مختص کرنے کے بعد قرعہ کیا جانا چاہئے ۔ بتایا جاتاہے کہ 2ستمبر سے ریاستی حکومت نے حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں تعمیر کئے گئے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے قرعہ اندازی کرتے ہوئے قرعہ میں نکلنے والوں کو مکانات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی ۔ اسمبلی کے آخری مانسون اجلاس کے دوران قائد ایوان مقننہ جناب اکبر الدین اویسی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم میں مسلمانوں کو حسب وعدہ 12 فیصد مکانات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع کلکٹرس کو دی گئی ہدایات میں کہاگیا ہے کہ وہ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والوں میں 10 فیصد مسلمانوں کو ڈبل بیڈ روم اسکیم کے استفادہ کنندگان میں شامل کریں لیکن قرعہ میں ہی اگر کسی کا نام نہیں آتا ہے تو ایسی صورت میںایک فیصد بھی مسلم استفادہ کنندگان اس میں شامل نہیں ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے 10یا12 فیصد جو بھی فلیٹس مسلمانوں کے لئے مختص کئے جارہے ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے لئے علحدہ قرعہ اندازی کی جاتی ہے اور وہ تمام فلیٹس مسلم استفادہ کنندگان کے حوالہ کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں جنرل زمرہ کی قرعہ اندازی میں تمام درخواستوں کو شامل کیا جاسکتا ہے اور اگر ان میں بھی کوئی مسلم درخواست گذار کا نام آتا ہے تو انہیں بھی اس کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے اور ایسے میں مسلم استفادہ کنندگان کی تعداد اور فیصد میں بھی اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے لیکن جنرل زمرہ میں کی جانے والی قرعہ اندازی میں مسلم درخواست گذاروں کے نام نہ آنے کے سبب انہیں مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے درخواست گذاراس اسکیم میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے استفادہ حاصل نہیں کر پارہے ہیں۔