خانگی کالجس کو فائدہ ، 3.8 لاکھ کی جگہ 7 لاکھ روپئے سالانہ فیس وصولی کی گنجائش
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں خانگی میڈیکل کالجس میں فیس کے اضافہ کو حکومت کی جانب سے منظوری دیتے ہوئے طبی تعلیم کو مزید مہنگا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کا راست فائدہ خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کو ہوگا۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے 14اپریل کو جاری کئے گئے سرکاری احکامات کو گذشتہ یوم اس وقت منظر عام پر لایا گیا جبکہ 2020-23 کے پوسٹ گریجویٹ کورسس کے لئے ویب کونسلنگ شروع ہونے کے لئے ایک دن باقی تھا۔ پوسٹ گریجویٹ کی 600 نشستوں کے لئے ریاستی حکومت نے خانگی میڈیکل کالجس کو اس بات کا جازت دے دی ہے کہ وہ 3.8 لاکھ سالانہ فیس کی جگہ 7لاکھ روپئے سالانہ فیس وصول کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں موجود ان 600 نشستوں کے لئے فیس میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت نے دکن میڈیکل کالج اور چلمیڈا آنند راؤ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کو پہلے زمرہ میں شامل کرتے ہوئے ان کالجس کو 7لاکھ سالانہ کے بجائے 7لاکھ 75 ہزار روپئے سالانہ وصول کرنے کی اجازت فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 7 کالجس میں 7لاکھ 50 ہزار روپئے سالانہ وصول کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے ۔ 5کالجس کو پوسٹ گریجویٹ کیلئے 7لاکھ روپئے سالانہ فیس وصول کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری احکامات میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ ایڈمنسٹریشنس اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی کی جانب سے کی گئی سفارشات کی بنیاد پر میڈیکل پوسٹ گریجویٹ کیلئے سالانہ فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور اس اضافہ کا اطلاق تمام خانگی ‘ اقلیتی‘ غیر اقلیتی ‘میڈیکل اور ڈینٹل کالجس پر ہوگا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ڈینٹل کالجس میں پوسٹ گریجویٹ کیلئے 6لاکھ روپئے سالانہ فیس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ کو مخالف طلبہ فیصلہ قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت نے خانگی کالجس کے انتظامیہ کے دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے جبکہ اس فیصلہ کے منفی اثرات طلبہ کی تعلیم پر مرتب ہوں گے اور کئی طلبہ اچانک دوگنی فیس کردیئے جانے کے سبب معاشی پریشانیوں کے باعث سلسلہ تعلیم جاری رکھنے سے قاصر رہیں گے اور ان کی نشستوں کی فروخت کا نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ حکومت تلنگانہ کے اس فیصلہ پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ طلبہ تنظیموں کی جانب سے اعتراض کیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں ریاستی حکومت کی جانب سے طبی تعلیم کو آسان بنانے کے بجائے اسے مزید مشکل کرنیکے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔طبی ایمرجنسی کی صورتحال اور دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے باوجود حالات سے سبق لینے کے بجائے طبی تعلیم کو مشکل بنانے کے فیصلہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت نے اپنے اس فیصلہ سے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ ریاست کے طلبہ کے مفادات کے تحفظ سے زیادہ خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کے مفادات کے تحفظ کو ترجیح دینے میں مصروف ہے۔
