دو ماہ میں رپورٹ کی پیشکشی،ایک سالہ طویل احتجاجی ایکشن پلان: آر سی کنتیا
حیدرآباد۔/8 ستمبر، ( سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا نے کہا کہ تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس اور برقی کی خریدی میں بے قاعدگیوں کی جانچ کیلئے کانگریس قائدین پر مشتمل 16 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کنتیا نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے آبپاشی پراجکٹس اور برقی کی خریداری کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپئے کی لوٹ کی ہے اور سرکاری خزانہ پر زائد بوجھ عائد کیا گیا۔ پراجکٹس کی ری ڈیزائننگ اور زائد قیمت پر برقی کی خریدی سے عوام پر بوجھ عائد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی صرف الزامات عائد کرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ ثبوت کے ساتھ تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کو کمیٹی کا علی الترتیب صدرنشین اور کنوینر مقرر کرتے ہوئے دیگر 16 سینئر قائدین پر مشتمل کمیٹی تمام پراجکٹس کا دورہ کرے گی۔ یہ کمیٹی تکنیکی ماہرین اور انجینئرس کے ساتھ حقیقی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس میں کرپشن اور دیگر اُمور سے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جائیں گی۔ یہ کمیٹی اندرون دو ماہ اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اسے دستاویزی شکل میں ریاستی گورنر اور مرکزی حکومت کو پیش کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کرپشن کے خلاف جدوجہد کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن اس کا موقف تلنگانہ کے بارے میں دوہرا ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے کرپشن کے خلاف مرکزی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
