تلنگانہ کے ڈگری کالجس میں مایوس کن داخلے

   

Ferty9 Clinic

۔78 کالجس کے 727 کورسیس میں کوئی داخلہ نہیں
حیدرآباد /7 اگست ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوئے دو ماہ گذر جانے کے باوجود ریاست کے ڈگری کالجوں میں داخلوں کا عمل غیر اطمینان بخش ثابت ہوا ہے ۔ جبکہ ڈگری کالجوں کے نشستوں کی جملہ تعداد 3.86 لاکھ بتائی جاتی ہے اور ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے ’’ دوست ‘‘ کونسلنگ کے ذریعہ انجام دئے گئے داخلوں کے عمل سے صرف 1.76 لاکھ نشستوں پر داخلے ممکن ہوسکے اور فی الوقت دوست کونسلنگ کا عمل مکمل ہوجانے کے بعد ریاست بھر کے ڈگری کالجوں میں 2.09 لاکھ نشستیں مخلوعہ بتائی جاتی ہیں ۔ ریاستی محکمہ اعلی تعلیم کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ انٹرمیڈیٹ نتائج میں پیش آئے بعض بے قاعدگیوں کی وجہ سے نتائج کی اجرائی میں ہوئی تاخیر سے طلباء و طالبات میں بالخصوص ڈگری کورسیس میں داخلوں سے عدم دلچسپی کا رحجان دیکھا گیا ۔ جبکہ انٹرمیڈیٹ اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحانی نتائج کسی تاخیر کے بغیر جاری کردئے جانے کے باوجود دوست کونسلنگ کے ذریعہ ڈگری کورسیس میں داخلوں کا عمل بالکلیہ طور پر غیر اطمینان بخش رہا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے ایسے 78 ڈگری کالجس میں جن میں 727مختلف کورسیس پائے جاتے ہیں ۔ ان کالجوں میں ایک نشست کیلئے بھی داخلہ حاصل نہیں کیا گیا ۔ اس طرح مذکورہ ان تمام کالجس میں داخلے بالکلیہ طور پر صفر تعداد میں رہے ۔ جبکہ ریاست تلنگانہ کی مختلف یونیورسٹیوں سے ملحقہ ڈگری کالجس میں داخلوں کا جائزہ لینے پر اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت جملہ 18 ڈگری کالجس ، کاکتیہ یونیورسٹی سے ملحقہ 26 ڈگری کالجس ، مہاتما گاندھی یونیورسٹی ( ایم جی یو ) سے ملحقہ 13 ڈگری کالجس ، تلنگانہ یونیورسٹی کے تحت 6 ڈگری کالجس ، شاتاواہنا یونیورسٹی سے ملحقہ 10 ڈگری کالجس اور پالمور یونیورسٹی سے ملحقہ 5 ڈگری کالجس میں داخلے بالکلیہ طور پر صفر تعداد میں رہنے کا ا نکشاف ہوا ہے ۔