تلنگانہ کے کئی اضلاع میں عوام کی جانب سے رضاکارانہ لاک ڈاؤن کا نفاذ

,

   

صبح کے وقت میں تجارت، دوپہر سے نقل و حرکت پر پابندی، خلاف ورزی پر چالان، کیسوں میں اضافہ ‘دیہاتوں میں خوف کا ماحول
حیدرآباد۔تلنگانہ میں کورونا کیسس میں اضافہ کے باوجود حکومت کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن سے انکار کے نتیجہ میں کئی اضلاع میں عوام نے رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کورونا کیسس میں اضافہ کو روکا جاسکے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں کئی گاؤں لاک ڈاؤن نافذ کرچکے ہیں۔ رضاکارانہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ تجارتی سرگرمیوں کو دوپہر میں ہی بند کیا جارہا ہے اور عوام کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ بیشتر گاؤں میں دوپہر 12 بجے سے کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے اور گرام پنچایت کی جانب سے انتباہ دیا گیا کہ گھومنے والوں پر چالان کیا جائے گا۔ اگرچہ حکومت کا نافذ کردہ کرفیو رات 9 بجے سے ہے لیکن گاؤں کے ذمہ داروں نے دوپہر سے ہی کرفیو جیسی صورتحال نافذ کردی ہے۔ گاؤں میں بیرونی افراد کے داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے باوجود کئی اضلاع میں کورونا کیسس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اضلاع میں کیسس کے ساتھ ساتھ اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ کھمم، ورنگل، کتہ گوڑم ، نظام آباد، کاماریڈی اور دیگر اضلاع کے کئی دیہاتوں میں رضاکارانہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔ کھمم مرچنٹ اسوسی ایشن نے ہفتہ سے تجارت کے اوقات میں کمی کرتے ہوئے صبح 8 تا دوپہر ڈھائی بجے تک کاروبار کا فیصلہ کیا۔ کتہ گوڑم ضلع کے چیرلہ منڈل میں عوام نے رضاکارانہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ مارکٹس پر پابندی عائد کردی ہے۔ کئی اضلاع میں گرام پنچایتوں نے گاؤں کے بزرگوں کے مشورہ کے بعد لاک ڈاؤن کے حق میں قرارداد منظور کی۔ بودھن کے سالورہ موضع میں گاؤں والوں نے رضاکارانہ طور پر کاروبار دوپہر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا اور باہر سے آنے والوں کے گاؤں میں داخلہ پر پابندی عائد کردی۔ صبح کے وقت میں دو گھنٹے کیلئے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جارہی ہے۔ گاندھاری منڈل میں بھی گرام پنچایت کمیٹی نے پابندیاں عائد کی ہیں۔ ورنگل کے کئی مواضعات میں متفقہ قراردادیں منظور کرتے ہوئے گرام پنچایتوں نے رضاکارانہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی علاقوں میں صبح 7 تا 10 بجے اور شام میں 5:30 تا 7:30 بجے تک کاروبار کے اوقات مقرر کئے گئے۔ بعض دیہاتوں میں صبح 6 بجے تا 12 بجے تک دکانات کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بھونگیر، مریال گوڑہ، نلگنڈہ اور سوریا پیٹ میں بھی تاجروں نے اپنے طور پر تجارتی اوقات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ورنگل میں رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی اہم وجہ ہر موضع میں کیسس کی تعداد میں اضافہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر گاؤں میں 30 تا40 افراد متاثر ہیں جس کے نتیجہ میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جارہا ہے۔ کئی دیہاتوں میں سرپنچ مقامی پولیس کی مدد سے رضاکارانہ لاک ڈاؤن پر عمل کررہے ہیں۔