تلنگانہ کے کئی اضلاع میں موسلادھار بارش سے تباہی، 8 افراد بہہ گئے

,

   

l ریل پٹریوں کو نقصان l اہم شاہراہیں اور مواضعات کے راستے مسدودl کاماریڈی میں ایک ہزار سے زائد افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلیl انتظامیہ چوکس
lاضلاع کاماریڈی اور میدک میں ریڈ الرٹ جاری l آئندہ 24 گھنٹے مزید بارش کی پیش قیاسیl پولٹری فارم میں پانی داخل، ہزاروں مرغیاں فوت

 محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔27۔اگسٹ۔ تلنگانہ کے اضلاع کاماریڈی اور میدک میں تباہ کن بارش نے ریل‘ شاہراہوں ‘ کے علاوہ مواضعات کے راستوں کو مسدود کردیا ہے اور کئی علاقے پانی میں محصور ہونے کے سبب عوام کو کشتیوں کے ذریعہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کاماریڈی میں 1071 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کاماریڈی اور میدک کے کئی مواضعات میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی پانی میں محصور ہوچکے ہیں جنہیں فوری طور پر مدد فراہم کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں اضلاع میں بارش کے سبب تاحال 8 افراد کے بہہ جانی کی اطلاع ہے جبکہ 2 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ کاماریڈی اور میدک کے علاقوں میں تالابوں کے پشتے ٹوٹنے کے علاوہ پٹریوں کے بہہ جانے اور نشیبی علاقوں میں موجود کلورٹ جو ندی اور نالوں پر تعمیر کئے جاتے ہیں ان کے بہہ جانے کے سبب راستے مسدود ہوچکے ہیں۔ کاماریڈی اور میدک کے مختلف مقامات پر سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ضلع میدک میں 2 افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ میدک کے مختلف علاقوں میں موجود پولٹری فارمس میں سیلاب کا پانی داخل ہونے کے نتیجہ میں زائد از10 ہزار مرغیوں کے فوت ہوچکی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ نندی گاما نظام پیٹ منڈل میں موجود پولٹری فارم میں پانی داخل ہونے کے نتیجہ میں مرغیاں فوت ہوچکی ہیںجس کے نتیجہ میں لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ضلع انتظامیہ نے دونوں ہی اضلاع میں سیلاب میں پھنسے افراد کے لئے ڈرون کی مدد سے اشیائے تغدیہ کی فراہمی کے اقدامات کئے اور متاثرین تک غذاء پہنچائی گئی۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے کاماریڈی اور میدک کے لئے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے کیونکہ گذشتہ 14گھنٹوں کے دوران دونوں اضلاع کے مختلف مقامات پر 555 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے اور اب بھی موسلادھار بارش کاسلسلہ جاری ہے۔ موسلادھار بارش کے نتیجہ میں حکومت نے قومی شاہراہ نمبر 44کو بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے راستوں کو موڑدیا ہے جبکہ ریل کی پٹریوں کے بہہ جانے کے سبب ٹرینوں کو بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔کاماریڈی کے نظام ساگر منڈل میں برج کے قریب کام کر رہے مزدور پانی میں پھنس گئے اور انہوں نے قریب میں موجود پانی کے ٹینکر پر چڑھ کر انہیں بچانے کے لئے مدد طلب کرنی شروع کی کیونکہ اچانک سطح آب میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔ نظام آباد ۔حیدرآباد ریلوے ٹریک رامیشور پلی کے قریب بہہ سے جانے کے سبب ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ٹرین کی پٹریوں کے نیچے سے مسلسل پانی کا تیز بہاؤ جاری ہے۔ اسی طرح ضلع میدک کے دیہی علاقوں میں موجود تانڈوں میں پانی جمع ہونے کے سبب قبائیلی عوام پانی میں محصور ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جنہیں محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کا عمل تیز کیاجاچکا ہے۔ حکومت نے شدید بارش سے متاثرہ اضلاع میں فوری طور پر راحت کاری اقدامات کا آغاز کرنے کے لئے ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کو متحرک کردیا ہے۔چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی نے بیشتر اضلاع میں مسلسل بارش کے پیش نظر جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تمام محکمہ جات کے عہدیداروں کو خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ ضلع کاماریڈی اور میدک میں ریڈ الرٹ کے سبب 28 اگسٹ کو تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ضلع کاماریڈی کا شاہراہ کے ذریعہ حیدرآباد سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے کیونکہ عہدیداروں نے قومی شاہراہ نمبر 44 پر جنگم پلی میں شاہراہ پر پانی کے تیز بہاؤ کو دیکھتے ہوئے ٹریفک کو مسدود کرنے کے احکام جاری کردئیے ہیں جبکہ کاماریڈی سے نظام آباد جانے والی سڑک پر بھی کئی راستوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ضلع کاماریڈی کے مواضعات میں موجود مختلف محکمہ جات کی جانب سے چلائے جانے والے اقامتی اسکولوں میں پانی داخل ہونے کے سبب طلبہ پانی میں محصور ہوگئے تھے جنہیں محفوظ مقامات کو منتقل کردیا گیا۔ ناگی ریڈی پیٹ میں واقع بوائز ہاسٹل میں پھنسے طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔میدک میں مختلف مواضعات کو جوڑنے والی سڑکوں کے بہہ جانے کے نتیجہ میں مواضعات کے درمیان راستے منقطع ہوچکے ہیں۔میدک اور سنگاریڈی میں بھی مسلسل موسلادھار بارش کے نتیجہ میں لکشماپور سڑک کو بند کردیا گیا کیونکہ کئی تالابوں کے لبریز ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں پانی کا تیز بہاؤب دیکھا جانے لگا ہے علاوہ ازیں تالابوں کے پشتوں میں پیدا ہونے والی دراڑوں کے سبب نشیبی علاقوں میں پانی تیزی سے جمع ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں نے بتایا کہ سنگور میں 44000 کیوزک پانی جمع ہونے لگا ہے اور اس رفتار کو دیکھتے ہوئے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ سنگور ڈیم کے ذریعہ 22500 کیوزک پانی کے اخراج کے اقدامات کئے جائیں۔ سنگور سے پانی کے اخراج کی رفتار میں پیدا کی جانے والی تیزی کے نتیجہ میں نشیبی علاقوں میں مزید پانی جمع ہونے کا امکان ہے۔ضلع میدک کے رامائن پیٹ منڈل میں ایس سی ویمنس ڈگری کالج جو کہ اقامتی اسکول وکالج ہے اس میں 350 سے زائد طالبات پانی جمع ہونے کے سبب پھنس چکی تھیں جنہیں ڈی آر ایف کے عملہ نے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کئے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے کئی اضلاع کاماریڈی ‘ میدک ‘ سنگاریڈی ‘ سرسلہ ‘ سدی پیٹ میں گذشتہ شب سے جاری موسلادھار بارش کے نتیجہ میں کئی نشیبی علاقہ زیر آب آنے لگے ہیں ۔ ضلع میدک میں گذشتہ 14گھنٹوں کے دوران پدا شنکرم پیٹ میں 204 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹیکمال میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے لئے میدک میںبھی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے کی جانے والی پیش قیاسی کے مطابق موسلادھار بارش کا سلسلہ آئندہ 24گھنٹوں کے دوران جاری رہے گا۔ ضلع میدک میں مجموعی اعتبار سے 116ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سنگاریڈی میں 70 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور سدی پیٹ میں 60ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جس کے نتیجہ میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔محکمہ موسمیات نے جو الرٹ جاری کیا ہے اس کے مطابق تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع ورنگل ‘ ونپرتی ‘ وقارآباد‘ حیدرآباد ‘ رنگاریڈی ‘ ملکاجگری ۔میڑچل ‘ نارائن پیٹ ‘ نلگنڈہ ‘ کمرم بھیم آصف آباد‘ کھمم‘ جنگاؤں ‘ جگتیال‘ جئے شنکر بھوپل پلی‘ پدا پلی ‘ راجنا سرسلہ ‘ منچریال ‘ محبوب نگر ‘ محبوب آباد‘ جوگولامبا گدوال‘ ناگر کرنول ‘ ملوگو کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے۔

شہر و اضلاع میں نظم و نسق چوکس، چیف منسٹر کا اعلیٰ سطحی اجلاس
گنیش منڈپوں اور برقی کھمبوں کے اطراف چوکسی کی ہدایت، متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست بھر میں بارش کے پیش نظر عہدیداروں کو حیدرآباد اور اضلاع میں چوکسی کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمہ جات کے عہدیدار اور ملازمین صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ قدیم مکانات میں رہنے والے خاندانوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جائے۔ چیف منسٹر نے بارش کے پیش نظر اعلیٰ سطحی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا۔چیف منسٹر نے محکمہ ٹرانسکو کے عہدیداروں سے کہا کہ گنیش پنڈپوں کے قریب بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمرس کے سبب عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہونے پائے۔ برقی شاک جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ حیدرآباد میں حیڈرا ، جی ایچ ایم سی ، ایس ڈی آر ایف ، فائر بریگیڈ اور پولیس کے درمیان باہمی تعاون کی ہدایت دی تاکہ بارش کے دوران عوام کو کسی بھی پریشانی سے بچایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے ندیوں اور تالابوں کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے علاوہ کازویس اور کلورٹس پر پانی کے بہاؤ کی صورت میں ٹریفک کی آمد و رفت کو روکنے کی ہدایت دی ۔بعض تالابوں میں شگاف کا اندیشہ ہے لہذا محکمہ آبپاشی کو احتیاطی قدم اٹھانے چاہئے ۔ بارش کی صورت میں موسمی امراض کے پھیلنے کا خطرہ ہے لہذا شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی عملہ کو چوکس کیا جائے۔ آبادیوں میں پانی کو جمع ہونے سے روکا جائے۔ چیف منسٹر نے صحت و صفائی پر خصوصی توجہ کی ہدایت دی۔ انہوں نے محکمہ صحت کے عہدیداروں سے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں ضرورت پڑنے پر میڈیکل کیمپس کا اہتمام کیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وبائی امراض کی روک تھام کیلئے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر سے واقف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچاؤ اور امدادی کاموں کیلئے این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی خصوصی ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔1