اساتذہ برادری شدید ناراض، عنقریب ملازمین کا ریاست گیر احتجاج، حکومت کے رویہ کے خلاف کام کاج بند
حیدرآباد۔8۔ ستمبر۔ (سیاست نیوز) ریاست 12کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے تدریسی وغیر تدریسی عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے معاملہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے کوتاہی اور گذشتہ 9برسوں کے دوران تحریک تلنگانہ میں کئے گئے وعدہ پر عدم عمل آوری کے خلاف ریاست کی مختلف جامعات میں کنٹراکٹ کے اساس پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کا احتجاج جاری ہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی تمام ملازمین ریاست بھر میں احتجاج کا آغاز کریں گے۔ کنٹراکٹ ملازمین کی تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاست کی مختلف جامعات بالخصوص جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے تدریسی عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی تاخیر کے سبب اساتذہ برادری میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے رویہ کے خلاف کام کاج بند کرتے ہوئے احتجاج کی راہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ تحریک تلنگانہ کے دوران کے چندر شیکھر راؤ نے کنٹراکٹ ملازمین سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا لیکن تشکیل تلنگانہ اور تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے اس مسئلہ کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ کی جانے والی نمائندگیوں کو عہدیدارنظرانداز کر رہے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کو روانہ کی جانے والی سفارشات پر کسی قسم کی کاروائی نہ کئے جانے کے نتیجہ میں کنٹراکٹ ملازمین فی الحال علامتی احتجاج منظم کر رہے ہیں لیکن اگر اندرون 15یوم ان کے مسائل کی یکسوئی نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور تدریسی عملہ کے ساتھ ساتھ غیر تدریسی عملہ کو بھی شامل کرتے ہوئے متحدہ احتجاج کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ سینیئر اساتذہ و تدریسی عملہ کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم کو نظرانداز کئے جانے کے سبب ریاست میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں پیشرفت نہیں ہوپا رہی ہے جبکہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے علاوہ ریاست کی جامعات میں مخلوعہ تدریسی عملہ کی جائیدادوں پر تقررات کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کی جامعات کے معیار تعلیم کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔