تلنگانہ کے یونیورسٹیز میں تین ہزار سے زائد منظورہ جائیدادوں پر عدم تقررات

   

حیدرآباد ۔ 5 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : نیشنل اسیسمنٹ اینڈ اکریڈیٹیشن کمیٹی

(NAAC)
کی جانب سے A+ سرٹیفیکٹ دئیے جانے کے باوجود ریاست میں بعض یونیورسٹیز ناکافی فیکلٹی کے ساتھ کام کررہی ہیں ۔ تلنگانہ میں یونیورسٹیز میں حکومت کے اداروں بشمول یو جی اور پی جی سطح پر 3000 سے زائد منظورہ پوسٹس مخلوعہ ہیں اور انہیں پر نہیں کیا گیا ۔ یونیورسٹیز جیسے عثمانیہ یونیورسٹی کاکتیہ یونیورسٹی ، مہاتما گاندھی یونیورسٹی اور پالمورو یونیورسٹی میں فیکلٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے کیوں کہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد کوئی تقررات نہیں کئے گئے ۔ کاکتیہ یونیورسٹی اس کے لیے منظورہ فیکلٹی 351 کے منجملہ صرف 102 فیکلٹی کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ رجسٹرار کے مطابق یونیورسٹیز کو تقریبا 1051 منظوری جائیدادوں پر تقررات کی منظوری حاصل ہوئی ہے تاہم یہ تجویز تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن ( ٹی ایس سی ایچ ای ) کے زیر غور ہے ۔ ٹی ایس کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے تقررات کرنے کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے اور جلد ہی اسٹیٹ یلیجبلٹی ٹسٹ
(SET)
منعقد کیا جاسکتا ہے ۔ SET یا NET کامیاب امیدوار کسی یونیورسٹی میں فیکلٹی مقرر کئے جانے کے اہل ہوتے ہیں ۔ تاہم تلنگانہ میں 2014 کے بعد
SET
کا انعقاد عمل میں نہیں لایا گیا ۔ ہزاروں امیدوار جنہوں نے اس دوران
NET
کوالیفائیڈ ہوئے ہیں تقررات کا عمل شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔ یونیورسٹی سطح پر پروفیسر ، اسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے پی ایچ ڈی کے ساتھ نیٹ یا سیٹ امیدواروں کے لیے اہلیتی معیار ہوتا ہے ۔ رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر لکشمی نارائنا کے مطابق سیٹ کے انعقاد سے متعلق تجویز سکریٹری کو روانہ کی گئی ہے ۔ انہوں نے اس پر جواب دیا کہ ملازمین کے ڈسٹرکٹ الاکیشنس کے بعد اس معاملہ پر توجہ دی جائے گی ۔ رجسٹرار نے بتایا کہ یونیورسٹی سیٹ منعقد کرنے کے لیے تیار ہے ۔ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس سلسلہ میں فوری اقدامات کئے جائیں گے ۔
TSCHE
کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یو جی اور پی جی پروگرامس میں داخلوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن خاطر خواہ انسٹرکٹرس نہ ہونے کی وجہ طلبہ کافی متاثر ہورہے ہیں اور ان کی تعلیم پر منفی اثر ہورہا ہے ۔۔